مجمع میں لوگوں سے ان کے روزہ دار ہونے کے متعلق سوال کرنا اور اس کی شرعی حیثیت
کیا۔ مولانا صاحب نے جو کچھ بھی سنایا وہ سنایا، پھر انہوں نے کہا کہ بھائیو! ہم اور آپ کس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں؟ اللہ کے گھر میں ! یہ وہ جگہ ہے کہ یہاں امیر و غریب، رئیس ونواب ، سب ایک ہیں کیونکہ مجھے امید ہے کہ اللہ کے گھر میں جھوٹ نہیں بولیں گے۔ مولانا صاحب نے کہا کہ بھائیو! میں آپ سے ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں ، اگر آپ صاحبان ناراض نہ ہوں تو ۔ لوگوں نے کہا: کہئے ۔مولا نا صاحب نے کہا کہ آپ لوگ جو روزہ دار ہوں وہ اپنے ہاتھ اُٹھا ئیں اور بغیر روزہ دار نہ اُٹھائیں، جب ہاتھ اُٹھائے تو رونے لگے، اٹھانے والے روزہ دار تھے، مولانا نے کہا: دیکھئے ! میں سنا چکا ہوں کہ اللہ نے اس ماہ میں کھانا حرام فرمایا تو میرے بھائیو! کھانا حلال کھاؤ، حرام مت کھاؤ، اللہ سے ڈرو، نماز پڑھو، روزہ رکھو، زکوٰۃ دو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو بھی کرو نیک کام کرو۔ تو لوگوں نے عرض کیا کہ مولانا صاحب کو یہ بات نہیں چاہئے تھا کہ بغیر روزہ داروں کی تو ہین کی کسی کا پردہ فاش کرنا نہیں چاہئے تھا۔
(1) بے شک امام کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا کہ معصیت کا اظہار معصیت ہے اور اس کا حکم دینا گناہ۔ قال تعالى : وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ) واللہ تعالیٰ اعلم