سنت مؤکدہ کے پہلے قعدہ کا شرعی حکم اور لاحق کی نماز کا طریقہ کار
علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں : (1) نفل و سنت غیر مؤکدہ کا ہر قعدہ فرض ہے اور فرض و وتر کا پہلا قعدہ واجب ہے، تو سنت مؤکدہ کے پہلے قعدہ کا کیا حکم ہے؟ (۲) چار رکعتی نماز میں دوسری رکعت میں شامل ہو گیا ، دوسری رکعت پڑھنے کے بعد تیسری رکعت میں لاحق ہو گیا، چوتھی رکعت اور باقی نماز کس طرح ادا کرے؟ جواب عطا کریں۔
سنت مؤکدہ کے پہلے قعدہ کا وہی حکم ہے جو فرض دوتر کے قعدہ اولی کا ہے ! مقتدی جن رکعتوں میں لاحق ہوا ، ان میں قرآت نہ کرے! الجواب: (۱) وہی حکم ہے جو فرض و وتر کے قعدہ اولیٰ میں ہے، بدلیل آنکہ سنت مؤکدہ کے پہلے قعدہ میں درود شریف پڑھنا بعد التحیات کے منع ہے۔ ہندیہ و در مختار میں ہے: ولا يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم في القصدة الاولى في الاربع قبل الظهر ،، والجمعة وبعدها ولا يستفتح اذا قام الى الثلثة منها لانها لتأكدها اشبهت الفريضة الخ (۲) (1) اور اگر بھولے سے پڑھے تو سجدہ سہو واجب ہے۔ (1) الدر المختار، ج ۴، کتاب النکاح باب المهر ، ص ۲۹۱ ، دار الكتب العلمية بيروت (۲) تنوير الابصار مع الدر المختار ، كتاب الصلوة باب الوتر والنوافل، ج ۲، ص ۴۵۷ ۴۵۶، دار الکتب العلمية بيروت اسی میں ہے: ”لو صلی ناسیا فعلیه السهو وقيل لا شمنی () واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جن رکعتوں میں وہ لاحق ہوا، ان میں قرآت نہ کرے، امام کے ساتھ قعدہ میں بیٹھے پھر ایک رکعت قرآت کے ساتھ ادا کرے اور بیٹھ کر نماز پوری کرے، ہندیہ میں ہے: رجل سبق بركعة في صلاة هي من ذوات الاربع و نام خلف الامام في الثلاثة الباقية ثم انتبه ياتى بما عليه في حال نومه ولا يقرأ فيها ثم يقعد متابعة للامام ثم يقوم ويصلى ركعتا بقرائةويقعد ويتم صلاته (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله