اگر فرض جماعت سے نہ پڑھے تو وتر کی جماعت میں شرکت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کا کہنا ہے کہ اگر فرض جماعت سے نہیں پڑھے ہیں تو وتر جماعت سے پڑھ سکتے ہیں؟ اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تو زید نے کہا کہ کون سی حدیث میں لکھا ہے۔ کیا دلائل ہیں کہ اگر فرض جماعت سے پڑھے ہیں تو وتر بھی باجماعت پڑھنا چاہئے؟ زید کہتا ہے کہ یہ تو ایک عام بات ہے، اگر پڑھ لو جماعت سے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ مہربانی کر کے مفصل جواب عنایت فرمائیں کہ کیا پڑھنے میں حرج ہے یا نہیں؟ ایسے شخص پر شریعت کا کیا حکم ہے؟
الجواب بعون الملک الوہاب : اگر فرض جماعت سے نہ پڑھے تو وتر میں شریک نہ ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے: ثم رأيت القهستانى ذكر تصحيح ما ذكره المصنف ثم قال لكنه اذا لم يصل الفرض معه يتبعه في الوتر (1) وتر با جماعت پڑھنے میں ہمارے علمائے کرام کا اختلاف ہے، ایک قول میں باجماعت پڑھنا افضل ہے۔ در مختار میں ہے: د, هل الافضل في الوتر الجماعة ام المنزل تصحيحان - الخ“ (۲) علامہ کمال الدین ابن الہمام نے پہلے قول ( یعنی با جماعت وتر پڑھنا افضل ہے ) کی ترجیح کی۔ رد المحتار میں ہے: وو رجح الكمال الجماعة بانه صلى الله عليه وسلم كان أوتر بهم ثم بين العذر في تأخره مثل ماصنع في التراويح فالوتر كالتراويح فكما أن الجماعة فيها سنة فكذالك الوتر الخ (۳) عام مسلمین کا یہی عمل ہے کہ وتر باجماعت پڑھتے ہیں ۔ بالجملہ اپنے وقت اور اپنی حالت یا اپنی قوم کی موافقت سے جسے بہتر جانے ، اس کا اختیار رکھتا ہے، بے علم کے یونہبی امور شرعیہ میں بولنا سخت گناہ ہے،شریعت مطہرہ پر افتراء ہے، زید پر تو بہ لازم ہے، آئندہ باز رہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ ؍ر رمضان المبارک ۱۳۹۱ھ