سنت غیر مؤکدہ کی دوسری رکعت میں التحیات کے بعد درود اور تیسری کے شروع میں ثناء و تعوذ پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:سنت غیر مؤکدہ اور نوافل جو بیک سلام چار رکعتیں ادا کی جائیں اس کے قعدہ اولیٰ میں التحیات کے بعد درود پاک اور دعائے ماثورہ پڑھنا اور تیسری رکعت میں الحمد سے پہلے ثناء وتعوذ پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ بہار شریعت میں یہ مسئلہ دو طرح منقول ہے، پہلے کی طباعت میں پڑھنا چاہیے لکھا ہے جبکہ بعد کی طباعتوں میں نہ پڑھنا لکھا ہے، اس میں صحیح کیا ہے؟ بینوا بالدلیل و تو جروا عند الجلیل
سنن غیر مؤکدہ میں دوسری رکعت میں التحیات کے بعد درود اور تیسری رکعت کے شروع میں ثناء و تعوذ پڑھنا مستحب ہے۔ درمختار میں ہے:وو وفى البواقى من ذوات الاربع يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم ويستفتح ويتعوذولونذراً لأن كل شفع صلاة وقيل لاياتي في الكل وصححه في القنية (1)رد المحتار میں ہے:قوله (وقيل لا الخ ) قال في البحر ولا يخفى ما فيه والظاهر الأول زاد في المنح ومن ثم عولنا عليه وحكينا ما في القنية بقيل (۲)بہار شریعت میں یوں ہے:جو سنت مؤکدہ چار رکھتی ہے اس کے قعدہ اولیٰ میں صرف التحیات پڑھے“(۱) الدر المختار، ج ۲، كتاب الصلوۃ، باب الوتر والنوافل، ص۴۵۷ ، دار الكب العلمية بيروت(۲) ردالمحتار، ج ۲، کتاب الصلوۃ ، باب الوتر والنوافل ، ص ۴۵۶، دار الكتب العلمية بيروت اگر بھول کر درود شریف پڑھ لیا تو سجدہ سہو کرے اور ان سنتوں میں جب تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو سبحانک اور تعوذ بھی نہ پڑھے اور ان کے علاوہ اور چار رکعت والے نوافل کے قعدہ اولیٰ میں بھی درود شریف پڑھے اور تیسرے رکعت میں سبحانک اور اعوذ بھی پڑھے بشرطیکہ دورکعت کے بعد قعدہ کیا ہو ورنہ پہلا سبحانک اور اعوذ کافی ہے، سنت کی نماز کے قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھے اور تیسری میں ثناء تعوذ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ رمضان المبارک ۱۴۰۶ھ