امام جلدی جلدی نماز پڑھائے تو مقتدیوں کی نماز ہو جائیگی ! کمی کی صورت میں امام ضامن ہے!
علمائے دین کی رائے کیا ہے؟ برائے مہربانی جلد از جلد جواب دیں۔ عین نوازش ہوگی۔ (1) میرے یہاں مسجد میں حافظ جی تراویح پڑھاتے ہیں تو سلام جلدی پھیر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی آخری درود شریف آدھی پڑھنی رہ جاتی ہے، میں نے کہا: حافظ جی ! تھوڑی دیر میں سلام پھیرا کیجئے تو حافظ جی نے کہا کہ میری نماز ہو جاتی ہے، تمہاری ہو جائے گی۔ (۲) سحری جگانے والے نے سحری ختم کا اعلان کیا تھا میں اٹھ کر فوراً دودھ پی لیا۔ اب آپ یہ بتائیں که عید بعد روزہ قضا رکھنا ہوگا یا نہیں ؟ فقط ۔ والسلام
الجواب: (۱) امام کو اتنی جلدی نہ کرنی چاہئے اگر چہ یہ صحیح ہے کہ مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی اور اس میں جو کمی رہ جائے ، امام اس کا ضامن ہے۔ حدیث میں ہے: الامام ضامن ) وھو تعالی اعلم (۲) فی الواقع اگر وقت ختم ہو چکا تھا تو روزہ نہ ہوا، بعد رمضان ایک روزہ کی قضا لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۷ ررمضان المبارک ۱۴۰۴ھ (1) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ۷۷ کتاب الصلوۃ، باب ما يجب على المؤذن من تعاهد الوقت ، اصح المطابع