تیسری رکعت میں شناو تعوذ پڑھنا نوافل وسفن غیر مؤکدہ میں جائز و مستحسن ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسئلوں میں کہ: عصر اور عشاء کی اول سنتیں پڑھنے کا طریقہ کیا یہ میچ ہے کہ قعدہ اولیٰ میں بعد تشہد کے درود شریف پڑھے، پھر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو سبحان اللہ اور اعوذ بھی پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ کئی شخصوں کو یہ طریقہ بتا یا گیا مگر انہوں نے صحیح نہیں مانا۔ کیا حکم ہے؟
الجواب: ہاں، یہ طریقہ نوافل وسنن غیر مؤکدہ میں جائز ومستحسن ہے۔ ہندیہ وغیر ہا میں ہے: واللفظ للهندية وفى الاربع قبل الظهر والجمعة وبعدها لا يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم في القعدة الاولى ولا يستفتح اذا قام الى الثالثة بخلاف سائر ذوات الاربع من النوافل کذا فی الزاهدی ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۳ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۵ھ مرکزی دار الافتاء ۸۲ رسوداگران، بریلی شریف