دیہات میں نماز جمعہ کی عدم صحت اور بعد جمعہ ظہر کی باجماعت ادائیگی کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: چند روز سے موضع بلئی ، پوسٹ اتر ولہ، ضلع گونڈہ میں بعد نماز جمعہ چار رکعت نماز ظہر باجماعت لوگ ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہی فتویٰ ہے لہذا گزارش ہے کہ حکم شرع سے آگاہ فرمائیں کہ ان کا یہ طریقہ جائز ہے یا ناجائز ؟ اور اعلیٰ حضرت کا ایسا کوئی فتویٰ ہے یا نہیں ؟ حکم شرع سے آگاہ فرمائیں اور ایسا کرنے والے لوگ شریعت کے نزدیک کیسے ہیں؟ ان پر شریعت مطہرہ کیا حکم لگاتی ہے ؟ بینوا توجروا۔ جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء! شوکت علی کیراف حاجی محمد بیگ، شاہی مسجد، آگرہ روڈ ، کر لا، بمبئی 400070
دیہات والوں پر جمعہ کے دن ظہر فرض ہے، مگر جہاں عوام پہلے سے پڑھتے آئے ہوں، وہاں انہیں منع نہیں کیا جائے گا جمعہ و تشریق وعید الفطر و عید الاصمعی شہر کے سوا کہیں درست نہیں ! الجواب: فی الواقع ہمارے ائمہ مذہب حنفی کے نزدیک دیہات میں جمعہ وعیدین صحیح نہیں ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: لاجمعة ولاتشريق ولاصلوة فطر ولا أضحى الا فى مصر جامع او مدينة عظيمة (۲) جمعہ و تشریق وعید الفطر و عید الاضحی شہر کے سوا کہیں درست نہیں ۔ سید نا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ بھی یہی ہے۔ دیکھو فتاویٰ افریقہ وفتاویٰ رضویہ (۱) اہزاد یہات والوں پر جمعہ کے دن ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھ لینے سے ادا نہ ہو گا مگر جہاں عوام پہلے سے پڑھتے آئے ہوں، ہاں انہیں منع نہیں کیا جائیگا کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں منع کرنے میں اندیشہ ہے کہ وہ پنجگانہ بھی چھوڑا بیٹھیں گے۔ ہاں بعد جمعہ چار رکعت فرض ظہر باجماعت پڑھنے کا انہیں حکم ہے۔ یہاں سے ظاہر کہ وہ لوگ صحیح کرتے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۰؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ