دیہات میں قیام جمعہ اور منہدم مسجد کی زمین پر درخت و سبزی لگانے کا شرعی حکم
جاتے ہیں اس لئے علمائے دین سے دریافت کرتا ہوں کہ اس کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم نماز جمعہ ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جیسا حکم ہو، مطلع کریں۔ ایک اور بات قابل دریافت ہے، وہ یہ کہ اس گاؤں میں تقریباً ۴۰ سال پہلے مقامی مسجد چھوٹی سی بنی ہوئی تھی، جب وہ گر گئی تو دوسری جگہ مسجد بنائی گئی جو پختہ ہے مگر جو مسجد پرانی تھی وہ گر کر میدان ہو گیا اور اس میں بیل، بکری چرتے ہیں، گویا اس کی بے حرمتی ہوتی ہے اس لئے لوگوں کا خیال ہے اس کی بونڈری کرا کر اس میں پھلدار درخت لگا دیے جائیں اور سبزی وغیرہ بھی ، اور اس کی آمدنی دوسری مسجد جو بنی ہے، اس میں صرف کی جائے۔ لہذا اس کے بارے میں بھی مطلع کریں کہ شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ ایس اس زمین میں کرسکتے ہیں یا ہیں ؟ فقط !
الجواب: المستفتی محمد یوسف صاحب کلاں، بمقام بازید پور ضلع گیا ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب میں دیہات میں جمعہ صحیح نہیں۔ حضرت علی سے حدیث مروی ہے: " لا جمعة ولا تشريق ولا صلوة فطر ولا أضحى الا في مصر جامع او مدينة عظيمة (1) یعنی جمعہ وعیدین شہر کے علاوہ کہیں صحیح نہیں۔ لہذا ہمارے مذہب میں جمعہ کی صحت کے لئے شہر یا فنائے شہر ہونا شرط ہے۔ بنابریں جبکہ اس دیہات میں پہلے سے نماز جمعہ نہیں ہوتی تو اب بھی اجازت جمعہ قائم کرنے کی نہ ہوگی اور اس جگہ پر درخت و سبزی لگا کر اسے باغ یا کھیت بنانا جائز نہیں بلکہ وہ تاقیامت مسجد ہی رہے گی۔ در مختار میں ہے: ”لو خرب ما حوله و استغنى عنه يبقى مسجدا ابدا الى قيام الساعة ،، به یفتی (۲) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله / ۱۳ رجب المرجب ۱۴۰۲ھ (۱) عمدة القاری شرح صحیح البخاری، ج ۶، ص ۲۷۱، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القرى والمدن، دار الكتب العلمية بيروت كنز العمال ، ج ۸، ص ۱۷۴، حدیث - ۲۳۳۰۵ ، حرف اللام، دار الكتب العلمية بيروت (۲) الدر المختار، ج 1 ، ص ۵۴۸ کتاب الوقف ، دار الكتب العلمية بيروت