جمعہ کی نماز سے روکنے کا حکم اور دیہات میں جمعہ کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان اسلام اس مسئلہ میں کہ: زید کے گاؤں میں مسجد نہیں، قریب پانچ میل کے فاصلے پر ایک مسجد ہے، عرصہ قدیم سے جمعہ بھی ہوتا ہے، وہاں نماز جمعہ پڑھنے کے لئے اکثر جاتا تھا گزشتہ جمعہ کو نماز پڑھنے کی نیت سے مسجد تک پہنچا، اذان میں تھوڑی دیر تھی ، عمر و جو مسجد کے قریب رہتے ہیں اور دینی مسائل سے بھی واقف ہیں، زید کے ان سے تعلقات تھے ، اس بنا پر عمرو کے گھر بغرض سلام و دعا پہنچا، ملاقات کے بعد عمرو نے اپنے ذاتی کام کی غرض سے پاٹن جو قریب پندرہ میل کے فاصلے پر ہے، جانے کو کہا، زید نے کہا کہ میں جمعہ پڑھنے آیا ہوں، نماز کا وقت بھی قریب ہے، جمعہ پڑھ کر چلا جاؤں گا، یہاں مسجد میں ایک بجے اذان اور ڈیڑھ بجے خطبہ ہوتا ہے، زید کا عذر کہ نماز پڑھ کر جاؤں گا، نہ مانتے ہوئے عمرو نے زور دے کر زید سے کہا کہ نہیں، ابھی ایک بجے کی موٹر سے پاٹن چلے جاؤ اور وہاں پہنچ کر ظہر پڑھ لینا، زید مسائل سے ناواقف عمرو
جمعہ سے روکنے والا گنہ گار ہے، تو بہ کرے جہاں لوگ جمعہ پہلے سے پڑھتے آئے ہوں، وہاں منع نہ کیا جائے ورنہ اللہ کا نام لینا چھوڑ دیں گے! جمعہ کے دن دیہات والوں پر ظہر فرض ہے جو جمعہ ادا کرنے سے ساقط نہ ہوگا ! کے حکم سے مجبور ہو کر ایک بجے کی موٹر سے پاٹن روانہ ہو گیا اور تین بجے کے بعد پہنچا، پائن میں نماز جمعہ تین بجے سے پیشتر ہر مسجد میں ہو جاتی ہے، زید کا جمعہ تو فوت ہو ہی گیا مگر ظہر بھی نہ پڑھ سکا۔ عمرو کا یہ حکم کہ ابھی اسی وقت موٹر سے چلے جاؤ، زید کو دانستہ نماز سے روکنا صاف ظاہر اور ثابت ہے یا نہیں؟ یہ تو ہر مسلمان جانتا اور سمجھتا ہے کہ نماز سے انکار کرنا کفر ہے، ایسی صورت میں زید اور عمر و پر شریعت محمدیہ صلی الہ علیہ وسلم کا کیا فرمان ہے؟ برائے مہربانی تحریری جواب مرحمت فرمایا جائے ! المستفتی : رحمت چالیا ضلع سانه، گجرات الجواب: زید کو جائز نہ تھا کہ عمر کو جمعہ سے روکتا، وہ اس وجہ سے گناہ گار ہوا، تو بہ کرے۔واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مگر یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ وہ جگہ ایسی ہو کہ جہاں جمعہ صحیح ہو یعنی مصر یا فنائے مصر ہو، دیہات میں جمعہ صحیح نہیں۔ درمختار میں ہے: ”لان المصر شرط الصحة‘) اس دن دیہات والوں پر ظہر فرض ہے، جو جمعہ پڑھ لینے سے ساقط نہ ہو گا۔ مگر مصلحنا جہاں پہلے سے لوگ جمعہ پڑھتے ہیں، وہاں منع نہ کیا جائے کہ اللہ کا نام لینا چھوڑ دیں گے ۔ در مختار میں ہے: اما العوام فلا يمنعون من تكبير ولا تنفل اصلا لقلة رغبتهم في الخيرات (۲) تو اگر وہ جگہ دیہات تھی ، ایسی صورت میں زید پر جمعہ چھڑانے کا الزام نہیں، البتہ عمرو نے نماز قضا کی تو وہ گنہ گار ہوا، نماز ادا کرے اور تو بہ کرے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۸ رصفر المظفر ۱۳۸۱ھ دار الافتاء منظر اسلام،سوداگران، بریلی شریف