دیہات میں جمعہ کی نماز کا حکم، صحت جمعہ کے شرائط اور نئی مسجد میں جمعہ قائم کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ضلع پرتاپ گڑھ میں ایک گاؤں ہے جو شہر سے تین میل کے فاصلے پر ہے، وہاں ایک مولا نا پٹنہ سے ہر سال آیا کرتے تھے اور لوگوں کو وعظ ونصیحت سنایا کرتے تھے۔ وہاں ایک مسجد تھی ، لوگوں نے مولانا صاحب سے سوال کیا کہ یہاں جمعہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو مولانا صاحب نے فرمایا کہ اگر قرب و جوار کے لوگوں کے اکٹھا ہونے پر دو صفیں ہو جاتی ہوں تو جمعہ ہوسکتا ہے۔ ان کے حکم کے مطابق وہاں جمعہ قائم کر دیا گیا جس کو آج تقریباً ۴۵ سال سے زائد ہو گئے ۔ پھر انہی ۴۵ رسالوں کے درمیان اور مسجدیں تعمیر کی گئیں جن میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی تھی۔ وہاں کے لوگوں میں کسی بنا پر تفرقہ پڑ گیا جس کی وجہ ابھی حال ہی میں کسی شخص نے فتویٰ منگوا کر نہ معلوم اس نے اس سوال میں کیا لکھا تھا، اس کے جواب میں لکھ کر آیا تھا کہ جمعہ دوسری مسجد میں قائم کر سکتے ہیں لہذا ابھی دوسری مسجد میں جمعہ قائم کر دی گئی ہے۔ کیا ایسی صورت میں اس مسجد میں جمعہ کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟ مدل جواب عنایت فرما ئیں ۔ المستلنی : اسرار الحق، پرتاپ گڑھ معرفت محمد سعید الرحمن معلم منظر اسلام، بریلی شریف
الجواب: ہمارے ائمہ حنفیہ قدست اسرار ہم کے نزدیک صحت جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر شرط ہے اور شہر مذہب حنفیہ میں وہ جگہ ہے جہاں متعدد گلی کوچے، دوامی بازار ہو اور وہ جگہ ضلع یا پرگنہ ہوجس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت وحشمت سے ظالم سے مظلوم کا انصاف لے سکے۔ ہدایہ میں ہے: ”کل موضع له امیر ینفذالاحكام ويقيم الحدود (1) دیہات میں جمعہ صحیح نہیں بلکہ ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھ لینے سے سر سے نہ اترے گا ، ہاں جہاں پہلے سے جمعہ قائم ہے وہاں عوام کو مصلحت نہیں روکا جاتا کہ نماز بھی چھوڑ بیٹھیں گے اور نیا جمعہ قائم کرنے کی اجازت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله