خطبہ جمعہ کا خالص عربی میں ہونا اور دوسری زبان خلط کرنے کی کراہت کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ: سودہ نام کی ایک بستی ہے جہاں سب کے سب سنی صحیح العقیدہ ہیں، لیکن ممبر پر خطبہ کے درمیان اردو پڑھنے کے لئے اپنی کوشش ہے کہ اگر نہ پڑھا جائے تو مسلمانوں میں نااتفاقی پیدا ہو جائے اور یہی نہیں بلکہ امام بھلا بُرا کا مستحق ہوگا۔ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ بینوا تو جروا۔ (نوٹ) خطبہ جمعہ کس کی تصنیف کی ہوئی کتاب ہے؟
الجواب: خطبہ خالص عربی میں ہونا سنت متوارثہ ہے اور سنت متوارثہ کی اتباع ضرور چاہئے۔ در مختار میں ہے : ”لان المسلمین توارثوه فوجب اتباعهم (1) صحابہ کرام نے سینکڑوں بلاد نجم فتح کیے لیکن کہیں منقول نہیں کہ صحابہ کرام نے خطبہ فارسی یا اور کسی زبان میں پڑھا ہو یا اس میں اور کوئی زبان خلط کی ہو اور صد ہا برس سے عام دیار و امصار میں خطبہ کا عربی میں ہونا ہی پتہ دیتا ہے کہ خطبہ میں مسلمانوں نے اور کوئی زبان نہ ملائی تو یہ تعامل متوارث عدم نقل ہی نہیں بلکہ نقل عدم کے قائم مقام ہوا۔ حالانکہ مقتضی موجود تھا کہ غیر عرب عربی نہیں جانتے تھے اور جنس فعل کا مقتضی موجود ہو اور مانع مرتفع ہو پھر بھی نہ کیا جائے تو اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ وہ فعل صحابہ کے نزدیک مکروہ تھا لہذا خطبہ میں کسی اور زبان کا خلط مکروہ ہے، مسلمانوں کو صحابہ کرام کی اتباع کرنا چاہئے کہ فلاح آخرت ان کی تعظیم اور ان کی اتباع میں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” اصحابی کالنجوم بايهم اقتديتم اهتديتم “(۲) میرے صحابہ مثل ستاروں کے ہیں جن کی ان میں اقتدا کرو گے راہ ہدایت پاؤ گے۔ (1) الدر المختار ج ۳، ص ۶۵ ، كتاب الصلوة باب العيدين ، دار الكتب العلمية بيروت (۲) عمدة القاری شرح صحیح البخاری، ج ۱۰، ص ۲۸۸ ، دار الكتب العلمية بيروت اور بے وجہ شرعی آپس میں اختلاف خصوصاً مسئلہ شرعیہ میں بے جا ہے اور اس کا قطعی حکم شرعی معلوم ہونے کے بعد سخت حرام حرام حرام بد انجام ہے۔ قال تعالیٰ: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اخْوَةٌ ) مسلمان مسلمان بھائی ہیں۔ اور فرماتا ہے رب کریم : وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ - الآية (٢) اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے۔ وقال تعالى: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ - الآية (۳) اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ ھو الہادی وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ محرم الحرام ۱۳۹۶ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی