دیہات میں نماز جمعہ کا حکم اور عوام کو نماز سے روکنے کی ممانعت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : جمعہ دیہات میں جائز ہے یا نہیں؟ جس گاؤں دیہات میں جمعہ کی نماز پہلے سے ہو رہی ہے، اس کو ختم کرنا چاہئے یا نہیں؟ اور اسی مقام پرنئی مسجد بنا کر جمعہ قائم کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب مرحمت فرما کر مشکور فرمائیں!
الجواب: المستفتي محمد عطاء الرحمن صاحب نوری، ساکن دعوز و ضلع بریلی شریف (یوپی) دیہات میں جمعہ وعیدین صحیح نہیں۔ لان المصر شرط الصحة كذافي الدر المختار () جمعہ کے دن دیہات والوں پر ظہر فرض ہے جو جمعہ پڑھ لینے سے ادا نہ ہوگا بلکہ ذمہ پر رہے گا مگر جہاں پہلے سے عوام جمعہ پڑھتے آئے ہیں وہاں انہیں منع نہ کیا جائے کہ آخر خدا کا نام لیتے ہیں منع کرنے میں اندیشہ ہے کہ وہ پنج وقتہ بھی چھوڑ بیٹھیں گے۔ در مختار میں ہے: اما العوام فلا يمنعون من تكبيرات ولا تنفل اصلا لقلة رغبتهم في الخيرات (۲) ہاں انہیں یہ حکم ہے کہ بعد جمعہ چار رکعت ہنیت فرض ظہر باجماعت پڑھ لیا کریں اور نیا جمعہ قائم کرنے کی اجازت نہیں۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۲ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۲ھ (۱) الدر المختار، ج ۳، ص ۴۶، کتاب الصلوة باب العيدين دار الكتب العلمية بيروت (۲) الدر المختار، ج ۳، ص ۵۲ کتاب الصلوة باب العیدین ، دار الكتب العلمية بيروت