دورانِ خطبہ مقتدیوں کے لیے کلام و نماز کی ممانعت اور مخصوص دعاؤں کا حکم
جب امام خطبہ کے لئے منبر پر آجائے تو ختم خطبہ تک مقتدیوں کو کلام و نماز کی اجازت نہیں ! مکرمی و محترمی ! السلام علیکم امید ہے مزاج عالی بعافیت ہوگا۔ ہمارے گاؤں میں چند دینی مسائل کے باعث آپس میں بغض و نفاق اور عناد و اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ جن کی جانب آپ کی گراں قدر توجہ مبذول کروانے کا متمنی ہوں۔ ہمارے گاؤں کی مسجد کے پیش امام صاحب نے چند فرسودہ رسومات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بدعت قرار دیا ہے۔ ایک طبقہ انہیں بدعت تسلیم کرنے پر کسی طور راضی نہیں جس کے باعث اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ بدعت قرار دیے جانے والے نکات مندرجہ ذیل ہیں۔ نماز جمعہ میں سنت ادا کرنے کے بعد جب امام خطبہ دینے کی غرض سے منبر پر تشریف فرما ہوتے تھے تو یہاں ان الله وملئکتہ “ پڑھنے کی قدیم رسم تھی ۔ یہی نہیں بلکہ ایک اور دعا بھی اسی موقع پر پڑھی جاتی تھی ، امام صاحب نے انہیں صریحاً بدعت قرار دیا ہے۔
الجواب: فی الواقع جب امام خطبہ کے لئے منبر پر آجائے تو ختم خطبہ تک مقتدیوں کو کلام و نماز کی اجازت نہیں۔ در مختار میں ہے : اذا خرج الامام فلا صلاة وكلام (1) آیت مذکورہ ودعا امام کے منبر پر آنے سے پہلے پڑھ لی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله