رمضان کے بعد چھ روزے، خطبہ میں اردو اشعار، تہجد، اذانِ خطبہ، عمامہ و ٹوپی، ساڑی، سجدہ تلاوت اور لنگوٹ سے متعلق مختلف مسائل
بعد رمضان چھ روزے رکھ کر عید کا اعادہ ہے یا نہیں ؟ خطبہ خالص عربی میں سنت متوارثہ ہے !نماز تہجد سنت ہے اور اس کی تعداد متعین نہیں! جمعہ میں خطبہ کی اذان اندر ہو یا باہر؟ عمامہ کے اندر ٹوپی کا ہونا کیسا؟ عورت کے لئے ساڑی پہننا جائز ہے یا نہیں؟ نماز فجر اور نماز عصر کے بعد آیت سجدہ پڑھی گئی، سجدہ کرے یا نہیں؟ کوئی شخص تہبند کے اندر لنگوٹ سینے نماز پڑھ سکتا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ: (1) رمضان کے پورے روزے رکھنے کے بعد کوئی شخص سنت کے چھ روزے رکھ کر نماز عید بھی پڑھ لیا ہے، کیا وہ پھر نماز عید ادا کرے؟ (۲) جمعہ یا عیدین کے عربی خطبے کے اندر جو اردو اشعار ہیں ان کو اس کے ساتھ پڑھ سکتا ہے یا عربی خطبہ پڑھنے کے بعد یا اول پڑھ کر پڑھے یا اول وثانی دونوں کے بعد؟ (۳) نماز تہجد سنت ہے یا نفل اور کتنی ہے؟ (۴) جمعہ میں خطبہ کی جو اذان دی جاتی ہے وہ اندر ہو یا باہر؟ (۵) عمامہ کے اندرٹوپی کا ہونا کیسا ہے؟ (1) عورت کے لئے ساڑی کا پہنا جائز ہے یا نہیں؟ (۷) کوئی شخص نماز عصر یا نماز فجر پڑھنے کے بعد تلاوت قرآن کرنے لگا، آیت سجدہ پڑھی گئی سجدہ کرے؟ (۸) کوئی شخص تہبند کے اندر بے لنگوٹ یا بے چڑی پہنے نماز پڑھ سکتا ہے؟ المستفتی : برکت علی گلاب پوروی ، گلاب پورہ محلہ تیل پاڑہ ضلع بھیلواڑہ ( راجستھان)
الجواب: (1) چھ روزہ بعد رمضان رکھ کر عید پڑھنے کا کیا معنی؟ اور نماز عید کا اعادہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) خطبہ سے پہلے کہ خطبہ خالص عربی میں سنت متوارثہ ہے اور خطبہ میں دوسری زبان ملانا مکروہ و خلاف سنت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سنت ہے مگر غیر مؤکدہ اور اس پر نفل کا بھی اطلاق آتا ہے اور کوئی تعداد معین نہیں ، البتہ دورکعت سے کم نہ ہو اور آٹھ رکعت سنت نبوی ہے (صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ) اور افضل یہ ہے کہ چار رکعت ایک سلام سے پڑھے، یہ ہمارے امام اعظم کا مذہب ہے۔ کنز وزیلعی میں ہے: ”والافضل فهو ارباع اى الافضل في الليل والنهار اربع اربع وهذا عند ابی حنیفة - الخ“ واللہ تعالیٰ اعلم اور مشائخ صوفیہ سے بارہ رکعت تک منقول ہے۔ (۴) خارج مسجد خطیب کے سامنے خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان ہو مکروہ ہے۔ خانیہ میں ہے: ”لا يؤذن في المسجد“ (۲) طحطاوی میں ہے: ”يكره ان یوذن في المسجد“ (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۵) مسلمانوں کی عادت قدیمہ زمان نبوت سے ہے۔ حدیث میں ہے: (1) ”فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم علی القلانس“ (۴) ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ہمارے اور بت پرستوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہمارے عمامے ٹوپیوں پر ہوتے (1) جہاں خاص مشرکہ عورتوں کا لباس نہ ہو وہاں اجازت ہے اور جہاں خاص لباس مشرکات ہو وہاں منع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) ہاں، کنز میں ہے: و عن التنفل بعد صلاة الفجر والعصر لا عن قضاء فائتة وسجدة تلاوة وصلاة جنازة (1) اس کی شرح زیلعی میں ہے: اى نهى عن التنفل في هذين الوقتين و لم يمنع عن اداء الواجبات التي ذكرها “(۲) حاشیہ شلبی میں ہے: قوله (لم يمنع عن اداء الواجبات الى آخره) وفى المجتبى الاصل ان ما يتوقف وجوبه على فعله كالمنذور وقضاء التطوع الذى افسده وركعتي الطواف وسجدة السهو ونحوها لايجوزومالايتوقف عليه كسجدة التلاوة وصلاة الجنازة اه (۳) مگر جب کہ طلوع و غروب سے پہلے آیت سجدہ پڑھی تو ضرور ہے کہ طلوع و غروب سے پہلے سجدہ کرے ورنہ سجدہ ادا نہ ہوگا۔ زیلعی میں ہے: لانها وجبت كاملة فلاتتادى بالناقص (۲) اور اگر طلوع و غروب کے وقت آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ تلاوت ادا کیا تو ہو گیا مگر افضل یہ ہے کہ ان دونوں وقتوں کے بعد سجدہ کرے۔ اسی میں ہے : اما اذا تلاها فيها جاز اداءها فيها من غیر کراهة لكن الافضل تاخيرها ليؤديها في الوقت المستحب لانها لاتفوت بالتاخير بخلاف ،، العصر ) واللہ تعالیٰ اعلم (۸) ہاں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۹ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالی علم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام،محلہ سوداگران، بریلی شریف