جمعہ کی نیت، لمبی قرأت، تکبیر تحریمہ، دعا بعد نماز اور امام کا کمیشن سے متعلق مسائل
(۱) جمعہ کی فرض نماز میں واجب کی نیت باندھ سکتے ہیں؟ ہمارے امام صاحب جو مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ صحیح ہے۔ (۲) فرض نمازوں میں مثلاً صبح کی نماز میں متعین آیت سے زیادہ لمبی پڑھتے اور وہ بھی بہت جلدی پڑھتے ہیں، وضو بنانے والا نماز میں شریک نہیں ہو سکتا۔ برائے کرم مستحب طریقہ قرآت کا تحریر فرمائیے۔ (۳) تکبیر تحریمہ اتنا آہستہ پڑھتے ہیں کہ قریب کا آدمی بھی بمشکل سن پائے۔ تو کیا ان کا آہستہ تکبیر کہنا صحیح ہے؟ (۴) فرض نماز کے بعد کی دعا اللهم انت السلام - الخ“ کا پڑھنا کیسا ہے؟ سنت ہے یا مستحب؟ اگر امام اس کے ترک کا عادی ہو تو کیا اس کا فعل خلاف سنت ہے؟ (۵) نماز پوری ہونے کے بعد امام صاحب زور سے دعا پڑھتے ہیں جبکہ نمازی نماز کی حالت میں رہتے ہیں اور اس سے ان کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے تو کیا ان کا زور سے دعا مانگنا جائز ہے یا نہیں ہے؟ مسائل کا خلاصہ مع مہر دستخط از روئے شرع شریف تحریر فرمائیے ۔ (1) ایک پیش امام بچے پڑھاتے ہیں اور امامت بھی کرتے ہیں، ان کو جماعت سے نذرانہ بر ماہ قریب ۵۰۰ روپیہ مع مکان کرایہ کے دیتے ہیں۔ تعلیم کے لئے وہ چندہ وصول کرتے ہیں اور سور و پیہ میں ۲۵ روپیہ کمیشن لیتے ہیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیا جائز ہے؟ المستنتی : حاجی سید نظام علی
الجواب: (۱) جمعہ فرض ہے اور اسے فرض جاننا قطعا فرض ہے لہذا فرض ہی کا قصد کرے اور واجب کبھی فرض پر بولا جاتا ہے تو واجب بول کے فرض مراد لے لے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صبح کی نماز میں بقدر چالیس یا پچاس آیت دونوں رکعت میں سوائے سورۂ فاتحہ کے پڑھنا مسنون ہے اور ظہر میں بھی اتنی مقدار پر یا کچھ کم پڑھنا مسنون ہے عصر وعشاء میں میں آیت کی مقدار قرآت کرنا سنت ہے اور مغرب میں چھوٹی سورۃ پڑھنا سنت ہے اور فجر وظہر میں طوال مفصل اور عصر و عشاء میں اوساط مفصل اور مغرب میں قصار مفصل پڑھنا مستحب ہے اور یہ حکم حضر میں حالت اختیار کا ہے اور حالت اختیار یہ ہے کہ وقت میں گنجائش ہو اور جان یا مال پر اندیشہ نہ ہو اور طوال مفصل حجرات سے بروج تک ہے اور بروج سے لم یکن تک اوساط مفصل ہے اور لم یکن سے آخر تک قصار مفصل ہے۔ ہندیہ میں ہے: ”وسنتها في الحضران يقرأ فى الفجر في الركعتين باربعين او خمسين آية سوى فاتحة الكتاب و فى الظهر ذكر في الجامع الصغير مثل الفجر و ذكر في الاصل او دونه وفي العصر والعشاء في الركعتين عشرين آية سوى فاتحة الكتاب وفي المغرب يقرأ في كل ركعة سورة قصيرة هكذا فى المحيط واستحسنوافى الحضر طوال المفصل في الفجر و الظهر و اوساطه فى العصر و العشاء وقصاره في المغرب كذا فى الوقاية وطوال المفصل من الحجرات الى البروج والاوساط من سورة البروج الى لم يكن والقصار من سورة لم يكن الى الآخر هكذا فى المحيط والوقاية ومنية المصلى“ (۱) اور اگر وقت میں گنجائش نہ ہو یا حالت خوف ہو تو اتنی مقدار پڑھے جتنی میں وقت نہ نکل جائے یا جان و مال پر ضرر لاحق نہ ہو۔ اسی ہندیہ میں ہے: ”و حالة الاضطرار فى الحضر وهو ضيق الوقت او الخوف على نفس او مال ان يقرأقدر مالايفوته الوقت او الأمن هكذا في الزاهدی“ (۲) امام مذکور اگر بلا عذر شرعی مقدار مسنون کی قرآت نہ کرنے کا عادی ہے تو گناہ گار ہے اور اگر اتنی جلدی پڑھتا ہے کہ حروف سمجھ میں نہیں آتے ہیں تو اس کی اقتداء میچ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تکبیر تحریمہ امام کو اتنی آواز سے پڑھنا کہ مقتدی سنے، واجب ہے، یہی حکم تکبیرات انتقالیہ کا بھی ہے اور اتنی آواز کہ خود سے تکبیر تحریمہ ادا ہونے کے لئے ضروری ہے ورنہ نماز نہ ہوگی کہ تکبیر تحریمہ ادانہ ہوگی ۔ تکبیر تحریمہ نماز میں شرط ہے۔ امام مذکور اگر اتنی آواز سے پڑھتا ہے کہ خود سنے تو نماز درست ہے مگر تارک واجب ہو کر گناہ گار ہوگا اور وہ لائق امامت نہیں کہ فاسق معلن ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ اور اس کی اقتدا درست نہیں ، اس کے پیچھے نماز فاسد ہے۔ ہندیہ میں ہے: والذكر ان كان وجب للصلاة فانه يجهر به كتكبيرة الافتتاح وماليس بفرض فما وضع للعلامة فانه يجهر به کتکبیرات الانتقال عند كل خفض ورفع اذا كان اماما اور اسی میں ہے: ’قال الفقيه ابو جعفر والشيخ الامام ابو بكر محمد بن الفضل ادنى الجهر أن يسمع غيره وأدنى المخافتة أن يسمع نفسه وعلى هذا يعتمد كذا في المحيط وهو الصحيح كذافي الوقايةوالنقايةوبهاخذعامةالمشائخ کذافی الزاهدی “ نیز ہندیہ میں ہے: ”ان صحح الحروف بلسانه ولم يسمع نفسه لا يجوز غنیہ میں ہے: ”لوقدموا فاسقاياثمون“ در مختار میں ہے : كل صلاۃ ادیت مع كراهة التحريم تجب اعادتها واللہ تعالیٰ اعلم (۴) مستحب ہے اور ترک خلاف اولیٰ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اتنی زور سے دعانہ مانگیں کہ نمازیوں کو خلل ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کمیشن لینا جائز نہیں، اجرت مقرر کرنا چاہئے اور اگر یہ شرعاً ثابت ہے کہ وہ کمیشن لیتے ہیں تو امامت کے لائق نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵/ جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ