گاؤں میں جمعہ وعیدین، بدمذہب کی اقتداء اور کعبہ کو سجدہ کرنے کے مسائل
مکرمی معظمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ: (1) ایک گاؤں یا محلہ، شہر کی جامع مسجد سے تقریباً ڈیڑھ یا دوکلومیٹر اور عید گاہ سے تقریباً ڈھائی یا تین کلومیٹر دور آباد ہے، وہاں کے رہنے والوں نے امسال پہلی بار بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے گاؤں یا محلہ کی ایک ایسی مسجد میں نماز عید ادا کر لی جہاں کبھی نہ نماز عید ہوئی اور نہ جمعہ اور از خود عیدگاہ اور جامع مسجد کو فراموش کر دیا۔ کیا ایسا کرنے والے شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف و باغی ہوئے یا نہیں؟ اگر ہوئے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ نماز عید جو کہ واجب ہے، ادا ہوئی یا نہیں؟ جب ان سے کہا گیا کہ ایسا کیوں کیا ؟ تو فتنہ وفساد کے بارے میں بتاتے ہیں اور اپنی طبیعت سے نئے نئے مسائل بیان کرتے ہیں اور اپنے کو عین شریعت مطہرہ کے مطابق بتاتے ہیں حالانکہ اب تک مسائل دکھانے سے معذور رہے ہیں۔ (۲) مسجد میں جھوٹ بولنے والے کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) نجدیوں کی تقلید کرنے والے عبد الوہاب نجدی کو اپنا دین و ایمان اور پیشوا تسلیم کرتے ہیں اور بھولے بھالے اہلسنت والجماعت کا ایمان لوٹنے کے لئے کہتے ہیں کہ عجم میں تو تم لوگوں کی نماز و ہائیوں تبلیغی جماعت والوں اور تھانوی جی کے چاہنے والوں کے پیچھے ہوتی ہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ تم لوگ پڑھتے نہیں مگر حرم شریف، خانہ کعبہ میں جا کر وہابی کے پیچھے نماز کیوں پڑھتے ہو؟ کیا وہاں پر ہو جاتی ہے؟ (۴) اگر کوئی شخص کعبہ کو سجدہ کرنے کا مدعی ہو جو کہ محض سمت قبلہ ہے تو کیا ایمان پر قائم رہا؟ (۵) کعبہ شریف، عرش معلیٰ اور گنبد خضری میں کس کو فوقیت حاصل ہے؟ اور کیوں؟ (1) مسجود لائق و محبوب دلها گشته اند تفسیر عزیزی میں کس جلد وصفحہ پر ہے؟ اس کی مفصل
وضاحت فرمائیں ۔ نوازش ہوگی ۔ والسلام علیکم ! برائے کرم مفصل جواب صادر فرما ئیں اور اپنے رسالہ اعلیٰ حضرت میں بھی شائع فرما ئیں ۔ عین المستفتی بشمس الدین، (پروپرائیٹر) تاج آنٹیلیٹری اینڈ پولیس ٹیلرس ، پرانی منڈی، تاج گنج، آگر و (یوپی) الجواب: (1) گاؤں میں جمعہ وعید کی نماز صحیح نہیں ۔ درمختار میں ہے: في القرى تكره تحريما لأنه اشتغال بما لا يصح لان المصر شرط الصحة مگر جہاں پہلے سے جمعہ وعیدین قائم ہوں وہاں عوام کو نہ روکا جائیگا کہ خدا کا نام لیتے ہیں جو کسی طرح اگر چہ مذہب غیر پر صحیح آتا ہے کہ ممانعت سے وہ پنجگانہ بھی چھوڑ دیں گے۔ اسی درمختار میں ہے: اما العوام فلا يمنعون عن تكبير ولا تنفل اصلا لقلة رغبتهم في الخيرات اور نیا جمعہ اور نئی جگہ عید قائم کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ لہذا یہ عید کی نماز اگر گاؤں میں پہلی بار پڑھی گئی تو حکم وہی ہے جو گاؤں میں نماز عید کا ہے اور قائم کرنے والے گنہ گار ہوئے اور شہر میں پڑھی گئی تو یہ دیکھا جائے گا کہ امام ماذون تھا کہ نہیں ؟ اگر امام ماذون تھا تو نماز ہوگئی اور بہتر یہ تھا کہ جامع مسجد یا عیدگاہ میں رہتے اور تقلیل جماعت نہ کرتے ورنہ نہ ہوئی۔ اسی در مختار میں ہے: ”و نصب العامة الخطيب غير معتبر مع وجود من ذكر اما مع عدمهم فيجوز للضرورة واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ولعنت کا کام ہے۔ قال تعالیٰ: فَتَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَذِبِينَ اور مسجد میں جھوٹ بولنا اور زیادہ ہولناک ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ، ایسے کو باز رکھا جائے نہ مانے تو مسجد سے باز رکھیں ۔ در مختار میں ہے: و يمنع عنه كل مو ذو لو بلسانه ) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کسی بد مذہب کے پیچھے کہیں کوئی نماز پڑھنا ہر گز جائز نہیں، جو لوگ مجدی کی اقتدا کرتے ہیں، اپنی نماز بر باد کرتے ہیں اور ہر گز کوئی سنی صحیح العقیدہ اسے مجدی جان کر اقتدا نہ کرتا ہوگا۔ تو نادان و بے خبر پر کیا الزام؟ ہاں جو دانستہ مجدی کی اقتدا کرے وہ ضرور ملزم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) کعبہ کو سجدہ کرنا دو احتمال رکھتا ہے۔ کعبہ کی طرف سجدہ کرنا اور اس میں اصلاً حرج نہیں، واقعی کعبہ مسجودالیہ ہے اور سجدہ خدا کے لئے۔ اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ کعبہ کو مسجود بنانا اور یہ نا جائز ہے کہ سجدہ بہر نوع خدا کے لئے خاص ہے اور قائل کی تکفیر اب بھی نہ ہوگی کہ جب اس کا کلام محتمل ہے تو کہیں معنیٰ کفری پر کلام کو ڈھالنا روا نہیں بلکہ اسی معنی پر حمل کرنا ضرور جو غیر کفری ہو۔ در مختار میں ہے : "اذا كان فى المسئلة وجوه توجب الكفر و واحد يمنعه فعلى المفتى الميل لما يمنعه (۲) اسی میں ہے: لا یفتی بکفر مسلم امکن حمل کلامه على محمل حسن او كان في کفره خلاف ولو كان رواية ضعيفة (۳) ہاں اگر مدعی تصریح کرے کہ میں کعبہ کو معبود جانتا ہوں تو اب ضرور کافر ہے کہ کفری معنی مراد ہونے کی تصریح کر چکا۔ اسی درمختار میں ہے: ”ثم لو نیته ذلک فمسلم والا لم ينفعه حمل المفتى على خلافه (۴) واللہ تعالیٰ اعلم (۶) ص ۲۲۹ تفسیر عزیزی مطبع مجتبائی میں ہے: دو نشیمن دوازدہم محبوب ناز مینے ماہ جینے بلکہ کعبہ مثالے کہ بجلی جمال الہی بدن اورا آشیانہ خود ساخته وطور تمثال کہ انوار حسن از لی بر آن تافته شان محبوبیت الهی در وجلوه گر شده صید دلها بجاز به محبت می کند و ہزار ان ہزار عاشق حسن ازلی دیوانہ وار بے توقع منفعت و استفاده کمالے از دور دست بجاذ به کمند او دویده می آیند و بر آستانه او سجدات می کنند و مشتاق لمعه از جمال و نیند و این مرتبه از ان مراتب که هیچکس را از بشر نه داده اند مگر بطفیل این محبوب مقبول برخی از اولیا است که اور اشمه از محبوبیت آن نصیب شده و مسجود خلائق ومحبوب دلها گشته اند مثل حضرت غوث الاعظم وسلطان المشائخ نظام الدین اولیا ء قدس اللہ سر ہما“۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ شب ۱۶ رشوال المکرم ۱۳۹۹ھ الجواب صحیح قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی تحسین رضا غفرلہ دار الافتاء منظر اسلام ،محله سوداگران، بریلی