کسی بیماری کے وہم کی بنا پر کسی سنی مسلمان کو مسجد سے روکنے کا شرعی حکم اور اس کی ممانعت
میں جاتا ہے تو وہ لوگ بھی منع کرتے ہیں کہ تم ہم لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے مت آؤ، آپ قرآن وحدیث کے حوالے سے جواب عنایت فرمائیں کہ خون خراب ہونے سے نماز اس پر ساقط ہو جاتی ہے اور اس کے آنے سے دوسرے لوگ اس بیماری سے ڈرتے ہیں تو کیا حکم ہے؟ آپ یہ بھی بتائیں کہ جن لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھنے سے اسے روکا ہے ان پر شرع کا کیا حکم ہے؟ وہ شخص پہلے گانجہ پیتا تھا، بہر حال جب سے وہ مسجد جانے لگا تھا وہ گانجہ نہیں استعمال کرتا تھا۔ اطمینان بخش جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی : مہدی حسن، چھاؤنی چوراہا، بہرائچ (یوپی)
الجواب: یہ کیسے معلوم ہوا کہ اس کا خون خراب ہے؟ اگر اس کا کوئی شرعی طریقہ نہیں جس سے صحیح علم ہو تو یہ کہنا محض وہم کی پیروی ہے اور جو بات محض انکل پر مبنی ہو وہ شرعا خو منع ہے۔ قال تعالى: إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ) پھر اگر فرض بھی کیا جائے کہ اس کا خون خراب ہے اس سے اور ووں کو کیا ضرر کہ اسے مسجد میں آنے سے روکا جائے؟ اور یہ گمان کہ اس کی بیماری دوسرے کو لگ سکتی ہے، محض خلاف شرع اور ضعف ایمان پر مبنی ہے۔ سرکا را بد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد ہے: لا عدوی (فی الاسلام) اسلام میں کسی کو کسی کی بیماری لگنے کا عقیدہ باطل ہے اور اس وجہ سے کسی مسلم سنی صحیح العقید ہ کو مسجد سے رو کن ظلم و گناہ اور بحکم قرآن مسجد ویران کرنے کی سعی ہے جو حرام اشد حرام بد کام بدانجام ہے۔ قال تعالیٰ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسْجِدَ اللهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا (۳) یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں سے رو کے کہ اس میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ان لوگوں پر تو بہ لازم ہے اور اس شخص کی دل آزاری کے سبب اس سے معذرت خواہ بھی ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۴ / رمضان المبارک ۱۴۰۷ھ