خطبہ میں دوسری زبان کا ملانا خلاف سنت متوارثہ ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس فتویٰ کے بارے میں کہ: (۱) آپ نے جو فتوی نمبر ۲۳۳۱، ۳۰رز والحج تاریخ کو خطبہ میں اردو نظم پڑھنے کے بارے میں تحریر کیا ہے جس میں یہ جواب ہے کہ خطبہ میں غیر زبان عربی کا لفظ غلط، مکروہ ،سنت متوارثہ کے خلاف ہے اورسنت متوارثہ کی اتباع واجب ہے اور سنت کے خلاف ہے لہذا وہ خطبہ خالص عربی زبان میں ہونا چاہئے ۔ اگر کسی نے اردو نظم وغیر غلطی سے پڑھا تو اس نے ایک فعل مکروہ کیا۔ باقی وہ فعل بدعت ضلالت گمراہی نہیں ہے تو اب ہم آپ سے عرض کرتے ہیں کہ جاء الحق وزهق الباطل میں اور مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ میں ہے کہ ہر ملک کی زبان ہر ملک کے ساتھ ہونی چاہئے ، اگر خطبہ میں اردو نظم سے اس کا مطلب سمجھا جائے اور ایسے درد کے ساتھ پڑھیں کہ عوام کے دل پر درد محسوس کرے اور یہ بھی واقعہ ہے کہ جب نماز کے بعد اردو میں دعامانگنے کی اجازت ہے اور جب کہیں تقریر ہوئی ہو تو وہاں پر بھی قرآن وحدیث عربی تلاوت کر کے اردو ہی میں ترجمہ بیان کرتے ہیں اور قرآن وحدیث میں ترجمہ ہو گیا اور دعا کو بھی کہتے ہیں کہ اردو میں مانگتے ہیں اور اس نظم کو کافی عرصہ سے جاری کر رکھی ہے اور آپ کے فتویٰ کے متعلق ہم نے بیان کیا اور وہ فتویٰ کو چھوڑ کر اور مثال دیتا ہے اور اختلاف پیدا کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ اگر بزرگ اردو نہ لاتے تو کام کیسے چلتا اور ہم عربی نہیں سمجھتے اور ہمیں نظم سے دلچسپی ہے تو ہم پھر آپ کو دوبارہ تحریر کر رہے ہیں کہ ہمارا ایمان تو آپ کا فتویٰ ہے یا تو آپ ہم کو کوئی کتاب ایسی مرحمت فرمائیں جس میں پورا پورا ثبوت یہ ہو کہ خطبہ میں اردو نظم پڑھنا درست نہیں اور اس شخص کے بارے میں تحریر فرما ئیں جو خونریزی لا یا اور انتشار پیدا کیا، اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ اگر کہیں سے درست ہو تو صاف تحریر فرما ئیں جو شخص آگے کچھ اور پیچھے کچھ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فقط! المستفتی : سید حافظ دلشاداحمد، گڑھ میر پور محلہ ذاصپور، سہارنپور
الجواب: خطبہ کے متعلق حکم وہی ہے جو لکھا گیا ہے کہ اس میں دوسری زبان ملانا خلاف سنت متوارثہ ہے۔ صحابہ کرام نے سیکڑوں بلاد نجم فتح کیے اور کہیں منقول نہیں کہ ان حضرات نے رعایت مجم سے خطبہ کسی اور زبان میں پڑھا ہو یا اس میں دوسری زبان خلط کی ہو، حالانکہ بعینہ اس امر کا مقتضی موجود تھا پھر بھی صحابہ ا کرام نے احتراز فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادنی درجہ حکم اس امر کا یہ ہے کہ وہ ان کے نزدیک مکروہ تھا اور صحابہ کے دور سے اب تک یہی تو ہوتا چلا آ رہا ہے اور توارث کا اتباع ضرور ہے۔ در مختار میں ہے: ،، لأن المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم (1) اور عادت جاریہ بین المسلمین کا خلاف موجب شہرت و تفریق ہے جو مکروہ ہے اور اس تفریق کا و بال اس کے مرتکب پر ہوگا ، ائمہ فرماتے ہیں: الخروج عن العادة شهرة ومكروه (۲) اور اس طرز سے عموماً بعض لوگوں کا مقصد شہرت ہی ہوتا ہے اور شہرت چاہنا موجب ذلت، جائیکہ امت عامہ کا خلاف کر کے شہرت چاہنا۔ حدیث شریف میں ہے: وو من لبس ثوب شهرة البسه الله يوم القيامة ثوب مذلة (۳) جو شہرت کو چاہے اسے اللہ تعالیٰ ذلت کا جامہ پہنائے پھر اس پر خونریزی پر آمادہ ہونا اور فتویٰ نہ ماننا حرام حرام بد کام بدانجام اور وہ شخص پیچھے کچھ کہے اور منہ پر کچھ ذوالو جہین ہے جس کے لئے وعید شدید حدیث شریف میں ہے اور ایسے کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ اور پھیرنا واجب ہے اور معترض کا یہ اعتراض کہ دعا اردو میں مانگی جاتی ہے، محض بیکار ہے، دعا بھی غیر عربی میں مانگنا مکروہ ہے۔ (1) (۲) (۳) الدر المختار ج ۳، ص ۶۵ ، كتاب الصلوة باب العيدين ، دار الكتب العلمية بيروت المنهاج فی شرح صحیح مسلم للنوی باب استحباب خضاب الشيب بصفرة اوحمرة وتحريمه بالسواء، ص ۱۹۹، مجلس البركات سنن ابن ماجه ، ص۲۵۷ ، باب من لبس ثوب شهرة من الثياب رد المحتار میں ہے: كره الدعاء بالعجمية (1) کیا ایسی دلیل سے نماز بھی اردو میں پڑھے گا؟ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب و اصاب من اجاب۔ حکم شرع یہی ہے اور عوام کی رعایت پوری ہو سکتی ہے کہ قبل اذان ثانی خطیب منبر کے پاس کھڑے ہو کر جو اردو میں پڑھنا چاہتا ہے وہ پڑھے پھر اذان ہو اور خطبہ خالص عربی میں ہو ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم