امام کا بلاوجہ نمازوں سے انکار، سلطان اسلام کی عدم موجودگی میں علماء کی ولایت اور عوام کے مقرر کردہ امام کا حکم
عیدین بھی نہیں ہوئی۔ کیا امام کا کہنا ہی ہے کہ ہم سب لوگوں کی نمازیں نہیں ہوئیں ۔ کیا شریعت میں عوام کو امام مقرر کرنے کا حکم نہیں؟ (۴) یہاں پر خالص سنت و الجماعت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے مقلدین ہیں، اس میں سے اشرفی برکاتی رضوی بھی ہیں ، امام نے بھولے بھالے عوام میں فتنہ و فساد ڈال کر گروپ میں پھوٹ ڈال دیا۔ اب امام کا کہنا ہے، آپ سب وہابی ہیں۔ کیا امام کے کہنے سے اہلسنت و جماعت سب وہابی ہو گئے ؟ اگر یہ غلط ہے تو امام کیا ہوا؟ اسے کیا کرنا ہوگا؟ کیا ایسا امام ہم سب کا سلطان حاکم ہے؟ وہ کہتا ہے میں آپ سب کا سلطان ہوں، صرف میں ہی ایک مومن ہوں ، تم سب فاسق ہو۔ ان سب سوالوں کا صحیح جواب علمائے دین متین لکھ کر روانہ کریں۔ المستفتی: داؤد خاں اشرفی معرفت عبد القادر مقام شی گاؤں ضلع کیو، ڈبلیو، صوبہ کرناٹک
الجواب: (۱، ۲) نماز جمعه و تراویح پڑھانے سے امام نے کیوں انکار کیا؟ اگر کوئی معقول و مقبول وجہ ہے تو بیان کرے ورنہ وہ ضرور ملزم ہے، جبکہ کوئی اور لائق امامت نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) امام جمعہ حاکم اسلام یا اس کا ماذون یا مازون کا ماذون ہونا ضروری ہے، اور آج کل حاکم اسلام کے قائم مقام ہر شہر کا سب سے بڑا عالم سنی صحیح العقیدہ مرجع فتویٰ ہے، اس کے ہوتے ہوئے عوام کا امام جمعہ مقرر کرنا درست نہیں تو اس صورت میں نماز جمعہ ان کے مقرر کردہ امام کے پیچھے درست نہ ہوگی۔ حدیقہ ندیہ میں ہے: اذا خلى الزمان من سلطان ذى كفاية فالامور مؤكلة الى العلماء ويلزم الامة الرجوع اليهم ويصيرون ولاة لهم - الخ ) (۱) الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية ، ج ۳۵۱ ، ۱ ، النوع الثالث من انواع العلوم الثلثة مكتبة نوریه رضویه پاکستان در مختار میں ہے: ” نصب العامة الخطيب غیر معتبر مع وجود من ذکر اما مع عدمهم فيجوز للضرورة) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اگر یہ واقعہ ہے جو تحریر ہوا تو امام سخت گنہ گار مستوجب نارحق اللہ وحق العباد میں گرفتار ہے، اس پر توبہ لازم ہے اور اگر امر واقعہ اس کے برخلاف ہو تو امام پر الزام نہیں بلکہ ملزم وہ ہے جو بے ثبوت شرعی الزام لگائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ رذی قعده ۱۴۰۰ھ صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی