اعلم علمائے بلد کی اجازت کے بغیر جمعہ وعیدین کے قیام اور صحت کا حکم
جن لوگوں نے یہ امامت کی اور جن لوگوں نے یہ قائم کیا، ان کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ ان سب لوگوں کو علمائے مذکورین کی ممانعت کا علم تھا۔ (۲) ایک قصبہ میں متعدد علمائے کرام میں ان کی ایک میٹنگ ہوئی، اس میٹنگ میں اتفاق رائے سے ایک ایسے عالم کو جو مقامی ہی نہیں بلکہ ملکی اور عالمی سطح پر مرجع فتوی ہیں کو اس کمیٹی کا صدر مقرر کیا گیا اور اسے یہ حق دیا گیا کہ اختلاف رائے کی صورت میں اس صدر کا قول قول فیصل اور واجب القبول والعمل ہوگا۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی مذکورہ بالا عبارت میں جسے اعلم علمائے بلد وافقہ بلد فرمایا ہے اور اقامت جمعہ وعیدین کی صحت جس کے اذن پر موقوف بتایا ہے کمیٹی مذکورہ کا صدر اس کا مصداق ہوگا یا نہیں؟ اور بغیر ان کے اذن کے جمعہ وعیدین کی نمازیں صحیح ہونگی یا نہیں؟ اور اس کے اذن کے بغیر بلکہ ممانعت کے با وجود جو جمعہ وعیدین پڑھی گئیں، وہ بیج ہوئیں یا باطل محض ؟ خصوصاً اس میٹنگ کے شرکاء اور قرارداد مذکور پر دستخط کرنے والوں کے نزدیک صدر مذکور اعلم علمائے بلد بمنزل حاکم اسلام ہوا یا نہیں ؟ اور صدر مذکور کی اجازت کے بغیر اس کمیٹی کے شرکاء میں کسی کو جمعہ وعیدین قائم کرنے کا حق ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں اور اس کمیٹی کے کچھ افراد نے صدر مذکور کی اجازت کے بغیر جو جمعہ وعیدین قائم کیے پڑھے اور پڑھائے وہ پیچ ہوئے یا نہیں؟ (۳) اگر اسی کمیٹی کے صدر اس معنی کر اعلم علمائے بلد نہیں جسے فتاویٰ رضویہ کی عبارت مذکورہ کی روشنی میں اقامت جمعہ عیدین کا شرعی ہے؟ نور الحق ، بڑا گاؤں ، اعظم گڑھ
الجواب: فی الواقع اب اعلم علمائے بلد سنی صحیح العقیدہ مرجع فومی حاکم شرع ہے، اقامت جمعہ وعیدین اس کے اذن پر موقوف ہے اور اسی کی اجازت سے صحیح اور جہاں ایسا عالم موجود ہو اس جگہ بغیر اس کی اجازت کے جمعہ وعیدین قائم کرنا صیح نہیں اور اگر ایسا عالم اس جمعہ وعیدین کی جماعت میں شریک نہ ہوا تو بوجہ عدم اذن وہ نماز نہ ہوئی اور وہ لوگ تارک فرض جمعہ یا واجب ہوئے ۔حدیقہ ندیہ میں ہے: اذا خلى الزمان من سلطان ذى كفاية فالامور مؤكلة الى العلماء ويلزم الامة الرجوع اليهم ويصيرون ولاة لهم ) در مختار میں ہے: ” نصب العامة الخطيب غير معتبر مع وجود من ذكر أما مع عدمهم فيجوز للضرورة (۲) اللہ تعالیٰ اعلم اور یہ حاکم و امیر شرعی کسی کے انتخاب پر نہیں ہے بلکہ خود بانتخاب الہی منتخب ہے۔ دیانت و فقاہت میں اس کا تفر دو تفوق خود ہی اسے متعین کرتا ہے (۳)۔ یہاں سے سب سوالوں کا جواب ہو گیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ شوال المکرم ۱۴۰۶ھ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی