جمعہ کی صحت کے لئے حاکم شرع کی اجازت اور مسجد باغ والی میں قیامِ جمعہ کا حکم
جمعہ کی صحت کے لئے شرط ہے کہ حاکم شرع جمعہ قائم کرے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد باغ والی محلہ ذخیرہ میں کم از کم دو سال سے جمعہ کی نماز ہورہی ہے۔ پتہ نہیں قاضی شہر سے اجازت لی گئی ہے یا نہیں؟ مگر جمعہ کی نماز ہو رہی ہے۔ اب کچھ دنوں سے امام جامع مسجد بریلی کا قول ہے کہ جامع مسجد کچھ دور رہنے کی وجہ کر مسجد باغ والی میں جمعہ کی نماز جائز نہیں ہے۔ مزید موصوف کا قول ہے کہ نہ تو جمعہ کی نماز ہوتی ہے اور نہ ظہر۔ زید کا کہنا ہے کہ جب قرب وجوار کی اور مسجدوں میں جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے تو یہاں کیوں نہیں؟ لہذا حضور والا سے التماس ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ عین کرم ہوگا المستفتى : وحیدالرحمن خاں، محله ذخیره ،نز مسجد باغ والی، بریلی
الجواب: جمعہ کی صحت کے لئے یہ شرط ہے کہ حاکم شرع کہ اب ہر جگہ کا سب سے بڑا عالم مرجع فتویٰ ہے، جمعہ قائم کرے یا وہ کسی لائق امامت کو مقرر کرے یا اس کا مقرر کردہ کسی کو اذن دے دے تو جمعہ کی نماز درست ہوگی ورنہ نہیں۔ باغ والی مسجد کا امام اگر ماذون به اقامت جمعہ ہے تو نماز جمعہ درست ہوگی مگر جبکہ جامع مسجد قریب ہے تو وہاں جمعہ قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ واللہ تعالیٰ اعلم ظہر کی صحت امام ماذون پر موقوف نہیں ہے، لہذا یہ کہنا کہ ظہر بھی نہ ہوگی ، غلط ہے مگر امام جامع مسجد سے یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ ایسا کہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ جمادی الاخرمی ۱۴۱۲ھ