نمازِ جمعہ کے بعد دعا کی طوالت اور جماعتِ اسلامی کے فرد کی مسجد میں موجودگی کا حکم
محترم جناب مولانا مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته از راہ کرم جلد مندرجہ ذیل سوال کا جواب عنایت فرما کر شکر گزارفرما ئیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایک صاحب یہاں امام مسجد سے کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز یعنی فرض کے بعد جو امام دعا مانگتے ہیں تو دعا کو بہت مختصر یعنی چھوٹی مانگا کریں اور نماز بھی چھوٹی سورۃ سے پڑھایا کریں اور خطبہ بھی مختصر پڑھا کریں جبکہ دوسرے نمازی امام سے دیر تک مانگنے کی ضد کرتے ہیں۔ کہنے والے شخص جماعت اسلامی کے بھی شوقین ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کالج جلدی جانا ہوتا ہے، دیر تک مانگنے والے بریلی سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں امام مسجد کے لئے کیا طریقہ بہتر ہے؟ مفصل شرعی حکم سے مطلع فرما کر شکر گزارفرما ئیں۔ فقط ۔ والسلام المستتلقى محمد علی
الجواب: جن فرضوں کے بعد سنتیں ہیں، ان کے بعد دعا مختصر کرنا چاہئے اور جس کے بعد سنت نہ ہو، اس میں اختیار ہے مگر اتنی طویل نہ چاہئے کہ باعث ملالت ہو اور مودودی جماعت والے وہابی بے دین ہیں، انہیں سنیوں کی مسجد میں آنا اور شریک ہونا حلال نہیں ہے، سنیوں کو لازم ہے کہ اسے باز رکھیں۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۴ھ