امام پر لگائے گئے بہتان کی شرعی حیثیت اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
تک امام صاحب اس لڑکی کو دم کر کے باہر کا دروازہ لگا کر اندر دروازے سے پاخانہ کرنے کو نکل پڑے، اس وقت مسجد کے صحن میں تین چار آدمی نماز و کتاب پڑھ رہے تھے عین وقت پر ایک شخص ایک آدمی کو ساتھ لے کر مسجد کے اندر آیا اور اس شخص سے کہا کہ تم یہیں کھڑے رہو، اور امام صاحب کے گھر کے اندر ایک لڑکی ہے جو دروازے سے بند ہے اور لائٹ بھی آف ہے، یہ کہ کر وہ شخص امام صاحب کے گھر میں داخل ہوا، امام صاحب جو پاخانہ جا رہے تھے اس شخص کو اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ بھی اس کے ساتھ کمرے میں داخل ہو گئے مگر گھر میں کوئی نہیں تھا ، وہ شخص جو باہر کا دروازہ بند تھا اس کو کھول کر چپ چاپ باہر نکل گیا، اس کے دس پندرہ دن کے بعد وہ شخص لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے فلاں دن فلاں تاریخ شام سات بجے امام صاحب کے گھر میں امام صاحب کے ساتھ ایک لڑکی کو دیکھا ہے۔ لہذا جو گواہ کے طور پر تھا جب اس سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا کہ میں نے صرف امام صاحب کے گھر میں تین آدمی का پاؤں دیکھا ہے اس کے علاوہ اور کچھ میں نہیں جانتا ہوں اور امام صاحب قرآن ہاتھ میں لے کر قسم کھاتے ہیں یہ سب باتیں جھوٹی ہیں اور وہ شخص بھی قرآن ہاتھوں میں لے کر قسم کھاتا ہے یہ سب جو میں نے کہا ہے، سچ ہے، فی الحال گاؤں کے قریب پچاس پنجوقتہ نمازیوں میں صرف تین چار آدمیوں نے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا ہے باقی سب پڑھتے ہیں اور خود گواہ بھی پڑھ رہا ہے۔ اب اس حالت میں اس امام صاحب کے پیچھے ہم لوگوں کی نماز پڑھنا درست ہوگی یا نہیں؟ براہ کرم بہت جلدی ہم لوگوں کو آگاہ کریں تا کہ ہم لوگ اس پر عمل کریں۔ فقط والسلام ! مسجد کمیٹی کی طرف سے جناب عبد القادر صاحب
الجواب: صورت سوال سے ظاہر ہے اس شخص نے امام مذکور پر بہتان لگایا ہے اور اگر یہ واقعہ ہے تو وہ شخص سخت گناہ گار مستوجب نار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے، اس پر تو بہ فرض ہے اور وہ لوگ بھی تو بہ کریں جنہوں نے بے ثبوت شرعی امام کو ملزم جان کر اس کی اقتدا چھوڑی اور امام پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ / جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ