قرآن صحیح نہ پڑھنے والے شخص کی امامت اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: میرے یہاں مسجد میں امام صاحب سنی صحیح العقیدہ ہیں اور وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں کہ میں عالم ہوں، لیکن ان میں علمی صلاحیت کچھ بھی نہیں ہے، کسی قصبہ میں جا کر آدھا گھنٹہ تقریر بھی کر لیتے ہیں لیکن تقریر کے دوران مذکر و مؤنث کی کوئی تمیز نہیں اور سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ قرآن بھی بہت غلط پڑھتے ہیں ، حروف کی ادائیگی صحیح نہیں ہوتی ہے جیسے چھوٹی س کی جگہ بڑی ش پڑھتے ہیں اور زیر زبر کی غلطی بہت ہے یہاں تک کہ کہیں کہیں حروف کاٹ کاٹ کر پڑھتے ہیں، میرے والد صاحب کتنی بار ان کی غلطی کی اصلاح کر چکے ہیں لیکن ان کی اصلاح کے باوجود بھی قرآن پڑھنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اب آپ یہ بتائیں کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں کہ نہیں؟ جواب جلد از جلد عطا فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ المستفتی : حافظ شمیم احمد معرفت عبدالغفار ٹیلر دھان ہٹی روڈ ضلع جلپائی گوڑی ، ( مغربی بنگال)
الجواب: فی الواقع اگر وہ شخص صحیح خواں نہیں ہے تو اسے امام بنانا جائز نہیں ہے اور اس کی اقتدا میں نماز باطل ہوگی۔ دھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی