دنیوی رنجش کی بنا پر افترانہ کرنا جائز نہیں !
سوال
علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : زید اور بکر میں شادی کی دعوتوں کے معاملہ میں بہت زیادہ دل شکنی ہو گئی ہے، بول چال بند ہے،
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
دنیوی رنجش کی بنا پر امام کی اقتدا چھوڑ نا جائز نہیں ہے لہذا امام میں اگر کوئی مانع شرعی نہ ہو تو اس کی اقتدا کرے ورنہ تارک جماعت مستوجب عذاب و ملامت ہے جبکہ بے وجہ شرعی اس کی اقتد ا سے باز رہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳۰ رشوال المکرم ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۱۲۶–۱۲۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بینک کا سود، ظہر کی سنت قبلیہ، مقتدیوں کا فاصلہ اور قرآت سری کے مسائل
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام کو غلط فعل کرتے دیکھنے کے بعد اس کی اقتدا اور شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
فتنہ انگیز امام نہیں ہو سکتا! فاسق کو امامت کے لئے بڑھانے والا گنہ گار ہے
باب: کتاب الصلوٰۃ
قرآن صحیح نہ پڑھنے والے شخص کی امامت اور اس کے پیچھے نماز کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
رشوت، سود، جوا اور شراب میں مبتلا افراد کے نطفے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ