بینک کا سود، ظہر کی سنت قبلیہ، مقتدیوں کا فاصلہ اور قرآت سری کے مسائل
بینک سے جور تم بڑھ کر ملتی ہے وہ مباح ہے ! ظہر کی سنت قبلیہ کو بعد میں پڑھنا کیسا؟ مقتدیوں کے مابین فاصلہ ہو تو کیا حکم ہے؟ قرآت سری کس قدر ہونی چاہئے؟ بے وجہ امام کی تو بین حرام ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) بینک میں روپے جمع کرنے پر جو روپے زائد ملتے ہیں یہ سود ہے یا نہیں؟ جواز وغیر جواز میں کیا فیصلہ ہے؟ (۲) نماز کے مقررہ وقت گزرنے پر اس خوف سے کہ نمازی کو تاخیر گراں گزرے گی اور نمازی کم ہو جائیں گے، ظہر کی سنت جماعت کے بعد پڑھنا کیسا ہے؟ جو امام کبھی ایسا کرلے، اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ (۳) امام کے پیچھے مقتدی کھڑے ہوتے ہیں مگر اتنا قریب کہ داہنے جانب ممبر کا فاصلہ،مقتدیوں کے درمیان اس خلا سے کچھ حرج ہے یا نہیں؟ (۴) زید ہر نماز کو خواہ وہ نفل ہوں یا سخت، اس قدر آواز سے پڑھتا ہے کہ قریب کے لوگ بخوبی سن لیتے ہیں ، شریعت کا کیا حکم ہے؟
(1) وہ سود نہیں ، خالص مباح ہے، ہر جائز مصرف میں خرچ کرنے کی اجازت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے عذر شرعی سنت مؤکدہ قبلیہ کو مؤخر کرنا شرعاً بُرا ہے اور اس کی عادت ڈالنا گناہ ہے اور بہ عذر شرعی گا ہے مؤخر کر دے تو حرج نہیں اور صورت مسئولہ میں اگر یہ واقعی ہے تو امام پر ملامت نہیں اور نماز ہو جائے گی جبکہ امام جامع شرائط امامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جگہ میں اگر وسعت نہ ہو تو حرج نہیں ورنہ قطع صف ہوگا جو ممنوع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) آہستہ اس قدر آواز سے پڑھے کہ خود سنے اور قریب کے لوگ گاہے گا ہے کچھ سن لیں تو اس میں حرج نہیں کہ اس سے تحرز دشوار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بے وجہ شرعی امام کی اہانت حرام بد کام بدانجام ہے مگر اس سے اس کی اقتدا نا درست نہ ہوگی، البتہ تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ رصفر المظفر ۱۴۰۲ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف