گلے کا بٹن کھول کر نماز پڑھنے کا حکم اور بارش کی وجہ سے عید کی متعدد جماعتیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) گلے کا بٹن کھول کر نماز پڑھنا یا پڑھانا کیسا ہے؟ (۲) اگر کوئی امام جان بوجھ کر گلے کا بٹن کھول کر نماز پڑھاتا ہے تو نماز میں کوئی خرابی تو نہیں آتی ؟ (۳) عیدین کا موقع ہو یا الوداع ، اگر بارش ہورہی ہے اور عید گاہ میں نماز پڑھنا دشوار ہو تو مسجد میں نماز عید یا الوداع پڑھی گئی لیکن لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ ایک جماعت میں نہیں سمارہے ہیں، تین دفع نماز پڑھی جائے گی تو سب آدمی پڑھ سکتے ہیں، تو ایسی صورت میں امام بدل بدل کر دو یا تین مرتبہ نماز پڑھی جا سکتی ہے کہ نہیں بوجہ مجبوری؟ از روئے شرع مندرجہ بالا سوالات کے جوابات مرحمت فرما ئیں ، کرم ہوگا، ہم ممنون و مشکور ہوں گے ۔ فقط والسلام !
الجواب: (1) بہتر نہیں، اور اگر سینہ بھی کھل جائے تو کراہت تحریمی ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) کراہت تنزیہی ہے جبکہ سینہ نہ کھلے ورنہ تحریمی اور نماز سینہ بند کر کے لوٹانا واجب۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تینوں امام اگر ماذون با قامت جمعہ یا عیدین ہوں تو تینوں جماعت والوں کی نماز درست ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۴ / جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ