دیوبندیوں سے میل جول، توہین آمیز کلمات اور جماعت میں کوتاہی کرنے والے امام کا حکم
(۲) ایک آدمی سنی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور دیوبندیوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے، دیو بندیوں کے ساتھ کھانا بھی کھاتا ہے اور اپنے گھر پر بلاتا بھی ہے اور دیو بندیوں کے پیچھے نماز بھی پڑھتا ہے، ایسے آدمی نے نماز پڑھائی تو ایک مقتدی نے کہا کہ نماز لوٹانی چاہئے کیونکہ اس کے عقیدے میں شک ہے، یہ سن کر امام نے کہا، نماز اس کے پیچھے ہو جاتی ہے تو آدمیوں کو الٹا راستہ دکھاتا ہے اور تو منافق ہے۔ تو نماز پڑھانے والے واعتراض کرنے والے امام کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا تو جروا (۳) ایک امام صاحب سنی ہیں اور کبھی کبھی دیوبندیوں کی چر چا چلتی ہے تو کہتے ہیں کہ دیو بندی آج کے سنیوں سے اچھے ہیں اور مسلمان جو اکھیلتے ہیں شراب پیتے ہیں مسلمانوں کے اخلاق اچھے نہیں ہیں اور امام صاحب کہتے ہیں زمانہ حال کے مسلمانوں سے ابو جہل بھی اچھا تھا تو ایسی باتیں کرنے والے کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۴) ایک امام صاحب فجر کی نماز میں، اگر ایک آدمی آتا ہے تو جماعت نہیں کرتے ہیں اور اپنی اپنی پڑھ لیتے ہیں اور اگر آدمی کہتا بھی ہے تو امام صاحب کہتے ہیں کہ آپ اپنی نماز پڑھ لو۔ وہ امام جانتے ہیں کہ ایک آدمی سے جماعت ہو جاتی ہے پھر بھی جماعت کرتے نہیں ہیں تو ایسے امام کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: المستفتی: محمد ہارون بن عثمان : جنتا کوئن ورکس،سورج کراڑی، میٹھا پور ضلع جامنگر، گجرات (1) فی الواقع اگر امام مذکور غیر معمولی تاخیر کرتا ہے جس کی وجہ سے مقتدیوں کو انتظار شاق گزرتا ہے تو ایسا کرنا اسے بے عذر شرعی جائز نہیں اور عذر شرعی ہو تو اسے پوچھنے پر بتانا لا زم اور بے وجہ شمع کوئی سے احتراز لازم اور اگر جماعت اس نے بے عذر شرعی چھوڑی تو گناہ کا مرتکب ہوا اور اگر اس کا عادی ہے تو لائق امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اعتراض اس شخص کا درست ہے، فی الواقع ایسا شخص لائق امامت نہ تھا اور نماز کا اعادہ لازم تھا اور امام اس کی بے جا حمایت اور معترض کو ناحق سب و شتم کر کے سخت گنہ گار مستوجب نارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوا، اس کی اقتد ا سے سخت پر ہیز لازم ہے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۳) دیو بندیوں کو مسلمانوں سے اچھا بتانا دیوبندیت نوازی ہے اور یہ بہت سخت ہے اور ابو جہل کو مسلمانوں سے اچھا کہنا بھی بہت شنی وقتی ہے، اس شخص پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) صورت مسئولہ میں وہ امام تارک جماعت ہو کر نالائق امامت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۵ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ