مشترکہ زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص حافظ قرآن ہیں اور نماز بھی پڑھا دیتے ہیں، ان کے مکان کی چھت کے پیچھے جو زمین مشتر کہ راہ داری ہے، اس زمین کو دوسرے لوگوں کو نظر انداز کر کے زبردستی اپنے مکان میں شامل کرنا چاہتے ہیں، یہ گی مشتر کہ راہ داری پچھتم رخ کو پار نہیں ہے پورب رخ کو اپنے مکان کے میل سے اس راہ داری کو چن کر بند کر دیا۔ محلہ والوں نے ان کو منع کیا کہ تم حافظ قرآن ہو، نماز بھی پڑھاتے ہو، جب یہ چیز کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے تو تمہارے واسطے کیسے جائز ہو جاو گی؟ ایک صاحب نے حافظ صاحب کی حمایت میں یہ کہا کہ یہ کلی اگر اپنے مکان میں نہیں ڈالیں گے تو مٹھیا بنے گی ، یہ آبادی پورب
پچھم اثر دکھن کل کی کل مسلمانوں کی ہے، اس مشترکہ راہ داری کو مکان کے اندر ڈالنے کی وجہ سے فتنہ پیدا ہورہا ہے، ایسی صورت میں ان صاحبان کے لئے شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ الجواب: المستفتی : عبدالوحید، محلہ صوفی ٹولہ، بریلی (یوپی) فی الواقع بر تقدیر صدق سوال اگر وہ زمین مشترکہ ہے تو اسے اپنے مکان میں شامل کرلینا امام کو حلال نہیں ۔ امام مذکور پر اور ان کے ہمنواؤں پر تو بہ لازم ہے اور اس زمین پر سے اپنا قبضہ اٹھا لینا امام کوضر ور ور نه اشد گناہ گار مستحق نار حق اللہ وحق العباد میں گرفتار ہے، اور امامت اس کی مکروہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ ؍ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ