بے وجہ شرعی امام بدلنے کا مطالبہ کرنے والے گنہگار ہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ: (1) ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب کی اقتدا میں چالیس فیصدی لوگ نماز نہیں پڑھتے ہیں، جماعت ہو جانے کے بعد اپنی اپنی نمازیں پڑھتے ہیں، ایسی صورت میں محلہ میں ایک مدرسہ ہے تو کیا وہاں ہم نماز پنجگانہ نماز تراویح پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ (۲) امام صاحب صحیح العقیدہ ہونے کے باوجود ان کی اقتدا نہیں کرتے کافی عرصے سے اختلاف چلا آرہا ہے، مسجد کے جوٹرسٹی و متولی وغیرہ ہیں، ان سے بارہا کہا گیا کہ امام صاحب کی تبدیلی کر دی جائے لیکن آج تک کوئی غور خوض نہیں کیا گیا۔ اس مسئلہ کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ جواب سے مطلع فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی ، وقت کم ہے ، جواب جلد عطا فرمانے کی زحمت کریں۔ المستفتی : عبداللطیف حاجی ، احمد آباد
الجواب: وہ لوگ اقتدا نہیں کرتے اور امام کو بدلنے کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟ اس کی وجہ اگر دنیوی رنجش ہے اور امام میں کوئی شرعی وجہ مانع امامت نہیں ہے تو یہ لوگ ملزم وگنہ گار ہیں ورنہ بصورت دیگر وہ امام ملزم ہے۔ تفصیل سے سوال کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۱ / شعبان المعظم ۱۴۰۸ھ