چند مختلف عیوب والے افراد میں سے امامت کے لیے موزوں شخص کا انتخاب
چند لوگ ہوں تو امام کے بنایا جائے؟ محترم المقام جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک گاؤں میں پارٹی بندی ہونے کی وجہ سے کوئی امام قائم نہیں ہے اور وہاں چار شخص اس لائق ہیں کہ جونماز پڑھا سکتے ہیں، مگر ان میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہے اور ایک کے اوپر ایک عیب نکالتے ہیں۔ ایک شخص جس کی عمر قریب ۷۵ رسال کی ہوگی اس کے گھر میں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے وہ نماز پڑھا بھی سکتا ہے اور پانچوں وقت کی نماز پابندی سے پڑھتا ہے اس کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ دوسرا شخص جس کی عمر ۴۰ سال کی ہوگی وہ بھی پکا نمازی ہے اور اتنا علم بھی رکھتا ہے کہ نماز پڑھا سکتا ہے مگر اس کے ایک پیر میں کچھ ایسی تکلیف ہے کہ قعدے میں صحیح حالت میں اُٹھ بیٹھا نہیں جاتا، اس کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور ایک شخص ہے جو حافظ قرآن ہے اور نماز بھی پابندی سے پڑھتا ہے مگر داڑھی منڈا ہے، اس کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے یا نہیں؟ ایک اور شخص ہے جو حافظ ہے مگر نماز غنڈے دار پڑھتا ہے یعنی پابند نماز نہیں ہے اور وہ بھی
الجواب: پہلے دونوں اگر صحیح القرآت صحیح العبارت اور مسائل نماز وطہارت سے واقف ہیں تو انہیں دو میں سے کوئی ہو سکتا ہے اور جو علم زیا دور کھتا ہے اسے مقدم کرنا افضل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۱؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ