بدعقیدہ امام کی امامت، وضو کا طریقہ، ڈاڑھی منڈے کی اذان اور امام کے لیے زکوٰۃ کا حکم
(1) امام صاحب اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آخری وقت میں اپنی موت کی دعا کی۔ دیگر اینکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابودرداء کے قدم کا بوسہ دیا تھا۔ چند افراد نے جب ان جملوں کی تحقیق کے لئے پوچھا تو امام صاحب نے کہا کہ میں نے سیوا نہیں کہا بلکہ یہ حق ہے۔ دیگر اینکہ امام صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک خود سنت رسول پر پورا پورا عمل نہ کرے تب تک کسی کو برا نہیں کہہ سکتے ، بلکہ بُرا کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں، جیسے دیگر فرقہ دیو بندی وہابی وغیرہ کو۔ لہذا اب ایسے امام کو کس فرقہ کا پیرو سمجھا جائے؟ اور ایسے شخص کو امامت سے معزول کیا جائے یا نہیں؟ (۲) خود امام صاحب کا یہ فعل ہے کہ ایک چھوٹے سے برتن میں ہاتھ ڈبوکر وضو کرتے ہیں، یہ درست ہے یا نہیں؟ (۳) جبکہ داڑھی والے موجود ہوں تو بغیر داڑھی والے سے اذان پڑھوانا کیسا ہے؟ (۴) امام کو زکو لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور زکوۃ لینے والے کی امامت درست ہے یا نہیں ؟ جواب جلد مرحمت فرمائیں۔ فقط والسلام! المستفتي: عبد المجيد نبي راجہ گھر یاد ضلع کالا نہیڈی ، اڑیسہ
الجواب: (1) بر تقدیر صدق سوال امام مذکور پر لازم ہے کہ جو اس نے کہا وہ اس کا ثبوت فراہم کرے، ورنہ اشد گناہ گارسخت جری بے باک مفتری کذاب گستاخ رسول ہے اور فرق باطلہ کے لئے جو اس نے کہا اس سے حمایت و تائید فرق باطلہ بک کر ان کے کفر سے اس کا راضی رہنا خوب ظاہر ہے، اسے امامت سے معزول کر نالازم ہے، اس پر تو بہ وتجدید ایمان اور تمام بدمذہبوں اور ان کی ضلالت ومعتقدات کفریہ سے بیزاری فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں ، اور وضو نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) مکروہ وممنوع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اسے زکوۃ لینا حرام اور اسے زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی اور اس کی امامت مکروہ و ممنوع ۔ اور اگر صاحب نصاب نہیں تو اسے زکوۃ دینا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله مسئلہ - ۴۷۵ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۷ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف