امام کا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچپن میں مردہ زندہ کرنے کا غیر معتبر واقعہ بیان کرنا
واقعہ ذیل بغرض دریافت حکم شریعت بطور استفتاء پیش کیا جارہا ہے، بغور ملاحظہ فرمایا جائے بشکل فتویٰ مرحمت فرمایا جائے۔ ماہ ربیع الآخر ا یک جمعہ میں قبل نماز جمعہ ہمارے محلہ کی مسجد کے امام صاحب نے فضائل و کرامات غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سلسلے میں تقریر کرتے ہوئے یہ بیان کیا کہ : حضور غوث الاعظم اپنے بچپن میں بچوں کے ساتھ مل کر ایک کھیل کھیلا کرتے تھے ، وہ کھیل عام بچوں کے کھیل سے جدا ہو تا تھا یعنی وہ بچوں کو زمین پر لٹادیا کرتے تھے اور اُن کو مردہ بتلا کر لفظ قم باذن اللہ فرما کر بچے کو ٹھوکر مارتے کہ وہ اُٹھ جاتا جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا اور بچے ترتیب سے اٹھ کھڑے ہو جاتے تھے۔ انہیں ایام میں ایک ضعیفہ کا ایک بچہ وفات اصلی کی زد میں آگیا جس کے سبب وہ ضعیفہ رورہی تھی کسی نے اسے روتا دیکھ کر کہا کہ اس شہر بغداد میں عبد القادر نام کا ایک بچہ ہے وہ ٹھوکر مار کر زندہ کر دیتا ہے تم اسے وہاں لے جاؤ، اس پر وہ ضعیفہ اپنے مردہ بچے کو لے کر وہاں پہونچی، آپ نے مردہ بچے کو دوسرے زندہ بچوں کی صف میں لٹادیا کھیل شروع ہوا اور ہمیشہ کی طرح غوث الاعظم قم باذن اللہ کہتے ہوئے بچوں کو ٹھوکر مارتے رہے اور بچے اٹھ اٹھ کر کھڑے ہوتے رہے لیکن وہ بچہ جومردہ تھا نہیں اُٹھا آپ نے جب دیکھا کہ یہ بچہ کیوں نہیں اُٹھا تو فرمایاتم باذنی یہ فرمانا تھا کہ بچہ فوراً اٹھ گیا۔ مقرر کی اس تقریر سے حاضرین نے غوث الاعظم کی شان میں اچھے الفاظ سے مدح سرائی کی، اس کے بعد تقریر ختم ہوگئی لیکن نماز ختم ہوجانے پر نمازیوں میں سے ایک صاحب نے امام صاحب سے کہا، ایسا واقعہ آج تک نہ تو کبھی علماء کے ذریعہ سننے میں آیا اور نہ کتابوں میں دیکھنے کو ملا، آپ نے یہ واقعہ کیسے بیان فرمایا ؟ تو امام صاحب نے جواب میں کہا کہ میں نے یہ واقعہ علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی کی تصنیف کردہ کتاب میں پڑھا ہے، اور اس کے حوالے سے بیان کیا، ان صاحب نے اعظمی صاحب کی قریب قریب کتابوں کا مطالعہ کیا جو اسی شہر میں موجود ہیں مگر اس واقعہ کونہیں پایا تو امام صاحب سے مکرر کہا تو امام صاحب نے بھی مکر ریہی کہا کہ میں نے اعظمی صاحب کی کتاب کے حوالے سے بیان کیا ہے، ان صاحب نے کچھ اور کتا بیں اعظمی صاحب کی تلاش کیں اور مطالعہ کیا مگر یہ واقعہ نہیں پایا اور امام صاحب نے مکر فرمایا کہ یہ واقعہ ہے اور میں نے اعظمی صاحب کی ہی تصنیف کردہ کتابوں میں پڑھا ہے اور پڑھنے کے بعد ہی واقعہ بیان کیا جو بیچ ہے اس کے بعد اس واقعہ پر
الجواب:واقعہ کی نسبت غوث پاک کی طرف ہو یا شمس تبریز کی جانب، امام پر بہر حال ثبوت دینا لازم، اگر ثبوت دے تو خیر ورنہ ہے تو بہ ورجوع اسے امام بنانا گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی