امام پر عورت کی جانب سے جھوٹا الزام لگانے سے امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ذیل کے مسائل میں کہ : زید و بکر دو پڑوسی ہیں ، بکر کی بیوی زید کو بڑا بھائی مانتی ہے، زید بھی اسے تسلیم کرتا ہے، ناگہانی مصیبت بکر پر آپڑی جس سے وہ ہر طرح سے بے کار ہو گیا، ایسے وقت میں زید نے اپنے طور پر ہرممکن مدد کی اور قرض کی صورت میں بھی روپیہ پیسے دیتا رہا، جس کی تعداد کافی ہوگئی ، بکر کے حالات سنبھلنے پر زید نے روپیہ جو بھی بطور قرض دیا تھا، اسے طلب کیا، جس سے بکر کو اعتراض ہوا کہ اتناروپیہ کیسے ہو گیا ؟ زوجہ بکر نے کہا پا نچ سو کبھی تین سو، اور کبھی کہتی ڈیڑھ سو۔ ان متضاد باتوں سے بات بڑھ گئی ، یہاں تک کہ ہاتھا پائی ہو گئی ، زوجہ بکر نے بھی بکر کا ساتھ دیا اور زید سے الجھ پڑی، یہاں تک کہ زید پر الزام لگایا کہ زید نے میرا بلاؤز چاک کر دیا، لوگوں نے جھگڑے کو دفع کردیا، کچھ دنوں کے بعد زوجہ بکر پڑوس کی بوڑھی عورت کو پکڑ لے آئی اور زید سے رورو کر اپنی اور اپنے شوہر کی غلطی اور گستاخی کی معافی مانگی ، چونکہ جمعہ کا وقت ہور ہا تھا اور مصلی مسجد کے ان تمام شی کو دیکھ رہے تھے لہذا زید نے اسے سمجھا کر بتایا اور مسجد کو چلا گیا، ایسی صورت میں زید کی امامت پر کوئی ضر ر آ سکتا ہے؟ نیز اس کی امامت درست ہوگی یا نہیں؟
الجواب: صورت مسئولہ سے ظاہر ہے کہ زوجہ بکر نے زید پر غلط الزام لگایا تھا، اگر واقعہ یہی ہے تو زوجہ بکر ملزم ہے اور زید پر الزام نہیں اور زید کی امامت جائز ہے، بشرطیکہ جامع شرائط امامت ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله