داڑھی کی شرعی مقدار، تہبند کے مسنون طریقے اور امامت کے مسائل
۵/ جمادی الآخر ۱۴۰۴ھ داڑھی کی مقدار شرعی ! رخسار پر بڑھے بالوں کو کا تنا جائز ہے! تہبند گھٹنوں سے نیچے ٹخنوں کے اوپر نصف ساق تک ہونا مسنون ہے! جناب بریلی سنی مدرسہ کے مولا نا صاحب! ہم آپ سے کچھ اسلام کی باتیں پوچھ رہے ہیں ، سو ان نیچے لکھے سوالوں کا جواب جلدی سے جلدی دینا، قرآن شریف پاس رکھا ہو اور پاس میں چلم پیتے ہوں تو ان کا جواب دینا۔ (۱) امام کا ، داڑھی کم کرانا جائز ہے یا نہیں؟ کم کراتا ہو تو اس کا کیا کرنا چاہئیے ؟ (۲) امام کو گھٹنوں سے نیچے لنگی یا پاجامہ پہننا جائز ہے یا نہیں ؟ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ لنگی گھٹنوں سے نیچے پہننا سنت رسول ہے اور داڑھی کم کرانا بھی سنت رسول ہے، ان امام کا کیا کرنا چاہئے؟ اور مسجد ہوتے ہوئے بھی مدرسہ کے اندر پانچ وقت کی نماز پڑھی جاتی ہے اور نماز و جمعہ پڑھاتے ہیں تو ان کا جواب جلدی دینا۔ (۳) جب امام نماز پڑھاتے ہوتے ہیں اور نیت باندھ کر اللہ اکبر کرتے ہوں تو ہاتھ کانوں کو لگانا چاہئے یا نہیں؟ جو کانوں کو لگا تا ہو ان کا کیا کرنا چاہئے؟ المستنقی: حنیف محمد جسونت گورہ ضلع ناگپور ( راجستھان )
(1) داڑھی کی حد شرع کہ ایک مشت ہے سے کم کرنا یا منڈانا حرام و گناہ ہے اور یکمشت سے زیادہ کو کاٹنا اور رخساروں پر بڑھے ہوئے بال کو کاٹنا جائز بلکہ سنت سے ثابت اور تہ بند گھٹنوں سے نیچا اور ٹخنوں سے اوپر نصف ساق تک ہونا مسنون ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۲) امام اگر سنی صحیح العقیدہ جامع شرائط امامت ہے تو مسجد کی حاضری اور جماعت کا التزام لازم ہے اور اگر امام جامع شرائط امامت نہیں اور مسجد میں دوسری جماعت مظنہ فتنہ ہے تو مدرسہ میں پڑھنا جائز ہے۔ وھو تعالیٰ اعلم (۳) کانوں کی لو تک تکبیر تحریمہ میں ہاتھ رکھنا مسنون ہے اور جو ایسا نہ کرے تارک سنت ہے اور اس کا عادی گناہ گار ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۷ /جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف