جس پر حکم کفر ثابت ہو اس سے ملنے جلنے والا لائق امامت نہیں، ایسے کے پیچھے پڑھی گئی نمازیں مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہیں !
حضور مفتی اعظم ہند ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ حسب ذیل مسئلہ کا شرعی جواب دے کر ممنون فرمائیں، کرم ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ : زید نے فتوی گلی گلی بانٹنے کو یزید کا کام کہا ، امام صاحب نے اس کا حلفیہ بیان کر دیا اس پر بریلی شریف سے ۳ رمضان ۱۴۰۳ھ کو اقراری کفر کا فتوی دے کر تو بہ، کلمہ، نکاح کا حکم ہوا وہ فتویٰ جبلپور میں پیش ہوا تو حضور مفتی اعظم مدھیہ پردیش برہان الحق صاحب نے تصدیق فرمائی، بعد میں وہ فتوی مشتہر کر دیا گیا۔ مگر ابھی تک امام صاحب اور کچھ دیگر مولوی زید مذکور کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں ،فتویٰ پر توجہ نہیں دیتے ہیں جبکہ الزام کی تحریر خود امام صاحب نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہیں ، اس صورت میں ایسے امام کی اقتدا میں نماز کا کیا حکم ہے؟ اور جو نمازیں پڑھی گئیں، اور جو پڑھی جائیں گی ان کا کیا ہوگا؟ جب تک زید مذکور فتویٰ پر عمل نہ کرے تب تک عام مسلمانوں کو اس کا بائیکاٹ ضروری ہے یا نہیں؟ چونکہ فتوی گلی گلی بانٹنے والوں کے کام کو یزیدی کام کا بیان خود امام صاحب نے لکھا ہے اور یہی بیان حضور مفتی اعظم کے
الجواب:بر تقدیر صدق سوال اگر امام مذکور کے بابت شرعی طور پر ثابت ہے کہ وہ اس شخص سے جس پر حکم کفر ہے، ملتا جلتا ہے تو وہ فاسق معلن ہے، جب تک تو بہ صحیحہ کے بعد اس کا صلاح حال اور اس شخص سے ترک تعلق ظاہر نہ ہو جائے ، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور دوسرے لوگ بھی جو اس کے ساتھی ہیں، گناہ گار ہیں، ان پر بھی تو بہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ یکم جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ