غیر محرم عورتوں کے ساتھ بے تکلفی برتنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
خانہ اور مولوی صاحب کے درمیان بہت گہراتعلق ہو گیا ہے، یہاں تک کہ صاحب خانہ مولوی صاحب کو اپنے بچہ جیسا مانتے ہیں، یہاں تک کہ صاحب خانہ کی اہلیہ مولوی صاحب کو اپنے سگے بھائی کی طرح چاہتی ہیں، یہاں تک کہ مولوی صاحب کے ہر آرام و تکلیف کا پورا خیال رکھتے ہیں، سب گھر والے خوش ہیں اس وجہ سے مولوی صاحب کو کھانے اور پکانے کی بالکل فکر نہیں ہے، اگر وہ لوگ مولوی صاحب کا ساتھ نہ دیتے تو مولوی صاحب ان مصروفیات کی وجہ سے اپنی ضروریات کو پوری نہ کر سکتے ۔ اب مسئلہ کی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا صاحب خانہ نے مولوی صاحب سے کہہ دیا کہ آپ جس طرح اپنے بہن بہنوئی کے یہاں آتے ہیں ویسے ہی یہاں بے جھجھک آیا کیجئے کیونکہ یہ سب آپ ہی کے بہن بھانجہ اور بھانجیاں ہیں۔ اب اس وجہ سے مولوی صاحب بوقت ضرورت روزانہ آتے جاتے ہیں صاحب خانہ کے گھر ، ان باتوں کو سبھی شہر کے مسلمان قریب قریب جانتے ہیں، اب یہی مولوی صاحب یہاں ایک مسجد مین امامت کرتے ہیں، آیا ان کے پیچھے نماز از روئے شریعت مطہرہ جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ مولوی صاحب اس طرح جاتے ہیں جیسے اپنے بہن کے گھر جاتے ہیں، گھر والے سب اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، آیا مولوی صاحب کا آنا جانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا المستفتی: عبدالباری غازی پور، حال مقیم : پور بندر، گجرات
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ امام مذکور اُن اجنبی عورتوں کے سامنے آتا ہے اور یہ شرعاً ثابت ہے تو وہ فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ اس پر تو بہ لازم ہے بعد تو بہ جب صلاح حال ظاہر ہو جائے تو امامت کے قابل ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۷ھ