امام کے استعفیٰ، تنخواہ میں اضافہ کے مطالبہ، نازیبا گفتگو اور مدرسہ کے انتظامی معاملات سے متعلق سوالات
فرمارہے ہیں، ان کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ مسجد کی آمدنی میں سے دیتے ہیں، اور ۱۰۰ روپیہ مدرسہ کی جانب سے دیا جاتا ہے، آپ نے اس سال مسجد میں ممبر کے قریب کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ میں رمضان مہینہ کے بعد یہاں سے چلا جاؤں گا اور میں اپنی امامت سے استعفیٰ دیتا ہوں، ٹرسٹ صاحبان نے جو کہ مسجد کا کاروبار سنبھالتے ہیں، استعفیٰ پر ان کے لکھے ہوئے مضمون کے مطابق متفق رائے سے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا اور انہیں کہہ دیا کہ آپ کا استعفیٰ منظور ہو گیا ہے، اس پر گاؤں کے لوگ ان کو سمجھا بجھا کر امامت پر بحال رکھا ہے، استعفیٰ دینے کے بعد کیا امام صاحب کے پیچھے مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی ؟ جبکہ انہوں نے دو یا تین مرتبہ ناراضگی سے استعفیٰ دیا ہے۔ (۲) تنخواہ زبردستی بڑھانے پر امام صاحب نے ایک مرتبہ عیدگاہ میں ٹرسٹ صاحبان کو علانیہ کہا تھا کہ آپ میری تنخواہ نہ بڑھائے تو میرا استعفیٰ اور نہ اضافہ کرنا ہو تو مجھ کو تحریری جواب چاہئے ، جب سے کچھ لوگ ان کے پیچھے نماز ادا نہیں کر رہے ہیں۔ صحیح راستہ پر کون ہے؟ امام صاحب؟ یا وہ لوگ جو نماز اُن کے پیچھے ادا نہیں کرتے ؟ (۳) امام صاحب نے رمضان میں تقریر کی تو میٹھے طنز کر رہے تھے کہ بھائیو زمانہ فتنہ فساد کا ہے، پیر سے مرید ہوشیار، استاذ سے شاگرد ہوشیار، اور امام سے مقتدی ہوشیار ہو گئے ہیں تو آپ ہی بتائیے ایسی باتیں کر کے عوام کی دل آزاری کر کے امام صاحب کی امامت درست ہے؟ (۴) رمضان شریف میں ایک سے دوسرا حافظ رکھنے سے بھی لوگ یہاں الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں اور اگر حافظ صاحب کو دوسرے حافظ نے لقمہ دے دیا تو ناراض ہو کر وہ یہ کہہ دے کہ آپ نماز پڑھائیے اور وہ ان کو دو تین لقمہ دے تو ایسا کرنا درست ہے؟ اور امام حافظ اگر سچ سچ غلط پڑھے تو کیا لقمہ لینے سے کوئی کمی ہو جاتی ہے ؟ آپ ہی برائے کرم ان باتوں کا خلاصہ کریں۔ (۵) ہمارے یہاں مسجد کے زیر نگرانی عربی مدرسہ چلایا جاتا ہے وہ مدرسہ میں حافظ صاحب بچوں کو پڑھاتے ہیں، ٹرسٹی لوگ مدرسہ کی ترقی کے لئے ایک دوسرا عالم بلاتے ہیں مگر وہ عالم آیا کہ گاؤں میں شور بچ جاتا ہے کہ اب یہ لوگ امام صاحب کو رہنے نہیں دیں گے، حالانکہ بچوں کی تعلیم کے لئے عالم صاحب کو بلوایا جاتا ہے، مقصد نیک ہوتا ہے۔ آپ ہی بتائیے کیا کیا جائے؟ لوگوں کو سمجھانے کا کام امام صاحب کا
الجواب: نوجوانان دونڈا ئچہ معرفت عبدالعزیز خاں، بھکن خاں دونڈا ئچہ چکی کے قریب مینار محلہ دونڈا کچھ ضلع دھولیہ، مہاراشٹرا (۱، ۲) استعفیٰ دینے سے امامت میں خلل نہیں آتا، اسوجہ سے امامت مکروہ نہ ہوئی اور اس وجہ سے اس کی اقتد ا سے باز رہنا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے وجہ شرعی طنز وطعنہ کرنا جائز نہیں، اگر ثابت ہو کہ امام نے بے وجہ شرعی طنز کیا اور مقتدیوں کی دل آزاری کی تو سخت ملزم ہے، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) عند الضرورت لقمہ دینا ضروری ہے اور امام کولقمہ لینا ہی چاہئے ،لقمہ برمحل لینے سے نماز میں کمی نہ ہوگی اور اس پر ناراضگی گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بے سر و پا افراط پھیلا نا حرام ہے اور امام کو ضرور کہ عوام کو حتی الوسع سمجھائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله