وقت فجر شروع ہونے کے بعد نفل پڑھنے والے کی امامت کا حکم
سوال
فجر کے وقت میں نفل پڑھنے والا امامت کا اہل ہے کہ نہیں؟ حضور قبلہ مفتی اعظم ہند ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته حافظ صاحب نے قرآن حکیم تھوڑا حصہ نفل نماز میں وقت فجر شروع ہونے کے بعد پڑھا، شبینہ پورا ہونے پر فجر کی نماز ادا کی ، کچھ یہ کہتے ہیں کہ یہ امامت نہیں کر سکتے۔ المستفتی : حافظ جمیل محمد، پیش امام عیدگان ، پلیا نمبر 4، جھانسی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: وہ لوگ غلط کہتے ہیں ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۹ / رجب المرجب ۱۴۰۲ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۹۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
نسبندی کرانے والا اگر بعد تو بہ نماز پڑھائے تو حرج نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
جھوٹ بولنے، وعدہ خلافی کرنے اور نماز کی پابندی نہ کرنے والے کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
جھوٹی گواہی دینے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
بدکردار، فاسق معلن اور داڑھی کٹانے والے شخص کی امامت کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
مسجد کے انتظام اور امام کے خلاف شرارت اور شرعی فیصلے کی خلاف ورزی کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ