بدکردار، فاسق معلن اور داڑھی کٹانے والے شخص کی امامت کا شرعی حکم
(1) ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے اور گالی بکتا ہے۔ (۲) دوسرے لوگوں کی بیوی بیٹی کو بد نظر سے دیکھتا ہے۔ (۳) سنیما زیادہ دیکھتا ہے۔ (۴) داڑھی بنواتا ہے۔ (۵) ہی کٹ بال کٹے ہوئے ہیں۔ (۶) کہتا ہے کہ امامت اپنی جگہ ہے اور تفریح اپنی جگہ ہے۔لہذا ایسے امام کے لئے کیا حکم ہے؟ اور ایسے امام کے پیچھے جو لوگ نماز پڑھیں، ان کے لئے کیا حکم ہے اور جو اس سے بات کریں یا کھانا کھلائیں، پاس بٹھا ئیں، ان کے لئے شریعت کے قانون میں کیا کیا حکم ہے؟ جواب دیا جائے۔ ہمستفتی: سرتاج احمد عرف کڑھے میاں ، موضع و پوسٹ رحیمہ ضلع بدایوں (اتر پردیش)
الجواب: فی الواقع اگر شرعا ثابت و مشتہر ہے کہ وہ شخص بے وجہ شرعی لوگوں کو برا کہتا ہے اور گالی بکتا ہے، حد شرع سے کم داڑھی رکھتا ہے، سنیما دیکھتا ہے تو سخت فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور یہی کٹ بال بھی صلحا کی وضع کے خلاف ہے، اس کو اس سے بھی پر ہیز چاہئے اور صلحا کی وضع اختیار کرنا چاہئے اور یہ جملہ کہ امامت اپنی جگہ ہے اس کی سخت جرات و بے باکی پر دلیل ہے، جب تک تو بہ نہ کرلے اور صلاح حال ظاہر نہ ہو، اس سے پر ہیز ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۱ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ