امام کے استعفیٰ، طنز و طعنہ، لقمہ دینے اور افراط پھیلانے سے متعلق مسائل
ہے یا نہیں؟ نوٹ: ہمارے یہاں صرف سنی لوگ ہیں، دوسری کوئی پارٹی نہیں ہے۔
الجواب: نوجوانان دونڈا ئچہ معرفت عبدالعزیز خاں، بھکن خاں دونڈا ئچہ چکی کے قریب مینار محلہ دونڈا کچھ ضلع دھولیہ، مہاراشٹرا (۱، ۲) استعفیٰ دینے سے امامت میں خلل نہیں آتا، اسوجہ سے امامت مکروہ نہ ہوئی اور اس وجہ سے اس کی اقتد ا سے باز رہنا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) بے وجہ شرعی طنز وطعنہ کرنا جائز نہیں، اگر ثابت ہو کہ امام نے بے وجہ شرعی طنز کیا اور مقتدیوں کی دل آزاری کی تو سخت ملزم ہے، تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) عند الضرورت لقمہ دینا ضروری ہے اور امام کولقمہ لینا ہی چاہئے ،لقمہ برمحل لینے سے نماز میں کمی نہ ہوگی اور اس پر ناراضگی گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بے سر و پا افراط پھیلا نا حرام ہے اور امام کو ضرور کہ عوام کو حتی الوسع سمجھائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله