جھوٹ بولنے، وعدہ خلافی کرنے اور نماز کی پابندی نہ کرنے والے کی امامت کا حکم
بعد دوسری جگہ امامت کر لی، ایسے ہی ایک بار میلاد شریف نہ پڑھنے کی قسم کھائی کہ اب کبھی میلا د شریف نہ پڑھوں گا اور پڑھی اور پڑھتے ہیں، اور ان کی کذب بیانی بہت دفعہ ثابت ہو چکی ہے اور اس سے تو بہ بھی کی ہے اور دوبارہ پھر صریح جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے اور کرتے رہتے ہیں اور نماز پنجگانہ کی پابندی تک پوری نہیں کرتے ، گھر یا اور کہیں کسی کام سے جاتے ہیں تو اکثر و بیشتر وعدے پر واپس نہیں آتے ۔ الغرض ان کا جھوٹ بولنا قسمیں کھا کھا کر توڑنا پھر ان دونوں فعلوں سے تو بہ کرنا اور تو بہ توڑنا ان کی عادت سی ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں ان کی امامت کی بابت کیا حکم ہے؟ واضح رہے بہت سے نمازی ان کی ان حرکات کی وجہ سے جماعت چھوڑ چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ان کی تو بہ کا کہاں تک اعتبار کریں؟ مطلب یہ ہے کہ ان کی امامت تقلیل جماعت کا باعث بنی ہے۔ اور امام موصوف لاؤڈ اسپیکر پر نماز پڑھاتے ہیں، جبکہ جماعت بڑی نہیں ہے یعنی کم و بیش ۲۵ ، یا ۳ ر آدمی ہوتے ہیں ۔ فقط ! المستفتی: اقبال احمد ،مونڈ یا نصیر، پوسٹ مونڈ یا نبی بخش ضلع بریلی شریف
الجواب: فی الواقع اگر امام مذکور پر شرعا ثابت و مشتہر ہے کہ وہ بے وجہ شرعی قسم توڑتا ہے اور جھوٹ بولنے اور بلا عذر شرعی وعدہ وفا نہ کرنے کا عادی ہے اور نمازوں کا پابند نہیں ہے تو سخت فاسق معلن بوجوہ متعددہ ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی ہے اور نماز واجب الاعادہ ہے، جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرے اور صلاح حال ظاہر نہ ہو جائے ، امامت کے لائق نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۴ ر رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ