جھوٹی گواہی دینے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرعی حکم
سوال
جانب سے یہ شہادت دی کہ قبرستان کے درخت کافروں کے ہیں۔ کسی نے ان کی گواہی کو تسلیم نہیں کی اور ان درختوں کو گورنمنٹی قرار دیا، اس غلط گواہی پر جماعت نے امام صاحب سے کہا کہ آپ کافر کے حق میں غلط گواہی نہ دو، اس کے برخلاف امام صاحب نے کافر کے حق میں گواہی دی۔ تو از روئے شرع امام صاحب کے اوپر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا المستفتی: ما بو بھائی مقام وڈاکخانہ رہکبات ،ضلع ستنا (ایم پی )
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: جھوٹی گواہی دینا اشد گناہ کبیرہ شدید عظیم گناہ ہے، اگر شرعاً ثابت ہے کہ امام مذکور نے جھوٹی گواہی دی تو فاسق معلن ہے، اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے، جب تک تو بہ نہ کرے اور صلاح حال ظاہر نہ ہو، اسے امام نہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ار جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۴ · صفحہ ۹۳
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مسجد کے انتظام اور امام کے خلاف شرارت اور شرعی فیصلے کی خلاف ورزی کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
نسبندی کرانے والا اگر بعد تو بہ نماز پڑھائے تو حرج نہیں !
باب: کتاب الصلوٰۃ
بد مذہب اور فلم دیکھنے والے امام کی اقتدا اور اس کے حق کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
وقت فجر شروع ہونے کے بعد نفل پڑھنے والے کی امامت کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
لند ہوں کی تائید کرنے والا نہیں اپنے یہاں بلانے والا، آئی اس میں شرکت کرنے والا بھی انہی میں سے ہے ابد مذہب کی تعظیم حرام ہے اور اسکی اقتدا میں نماز باطل محض !
باب: کتاب الصلوٰۃ