مسجد کے انتظام اور امام کے خلاف شرارت اور شرعی فیصلے کی خلاف ورزی کا حکم
الگ ہو گئے ۔ دوسری برادری کے کچھ افراد وہاں پر موجود تھے، انہوں نے گولک اور چابی اُٹھالی اور امام کا بھی انتظام کر لیا اب مسجد کے سابقہ منتظم لوگوں نے خرافات کرنا شروع کر دیا کہ ہم ان امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے، الزام اور بہتان لگانا شروع کر دیا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا بھی چھوڑ دی ، طرح طرح کے شر پیدا کرتے رہے، جھگڑا بڑھاتے رہے، اب موجودہ منتظمین نے مجبور ہو کر بستی میں چندہ کر کے علمائے کرام کو بلوایا، ان کے سامنے امام صاحب کے اوپر جو الزام بہتان لگائے تھے ، وہ پیش کئے ، شرعی طور پر ثبوت نہ ملنے سے علمائے کرام نے امام صاحب کو بہتان سے صاف بتایا اور آپس میں اتفاق کرا دیا، یہ اتفاق مسجد میں بیٹھ کر کرایا تھا، علمائے کرام کے تشریف لے جانے کے بعد دوسرے دن صبح کو ان لوگوں نے پھر وہی پہلے والی خرافات شروع کر دی اور علمائے کرام کے فیصلے کو نہ مانا ، خدا ورسول کا واسطہ دے کر یہ بات طے ہوئی تھی ، اب ان لوگوں نے خدا ورسول کے واسطے کو نہ مانا، مسجد میں بیٹھ کر یہ باتیں طے ہوئی تھیں، خدا کے گھر کا ان لوگوں نے ادب لحاظ نہ کیا، ایسے لوگوں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ حکم شریعت سے مطلع فرمائیے ۔ المستفتی: محمد اشفاق (بقلم خود) موضع ہو کاری پور ضلع پیلی بھیت (یوپی)
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے تو وہ لوگ جو شرعی فیصلہ کو نہیں مان رہے ہیں، سخت گناہ گار مستحق نار ہیں، تو یہ کریں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳ رذی الحجہ ۱۴۰۰ھ