نابینا حافظ قرآن اور متقی شخص کی امامت کا شرعی حکم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ بخدمت جناب قبلہ مفتی اعظم ہند صاحب سوداگران، محله بریلی شریف ! السلام علیکم اس معاملہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ: نگر یا سادات میں ایک مسجد ہے جس میں امامت کے لئے ایک صاحب جناب الیاس علی ہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، لوگ اس لئے راضی نہیں کہ ان میں وقت کی پابندی نہیں ہے، نہ ہی وہ پنجگانہ نماز پڑھتے ہیں ، دوسرے ایک عظیم الدین خاں صاحب ہیں جن کی نظر کمزور ہے، پڑھ نہیں سکتے ، خطبہ زبانی یاد نہیں ہے لیکن دو ایک کو چھوڑ کر سبھی ان کے پیچھے بڑے ذوق شوق سے نماز پڑھ لیا کرتے ہیں۔ میرا ایک حقیقی بھتیجہ محمد ہارون جس کی عمر ۲۰ سال ہے، قطعا نابینا ہے لیکن پانچوں وقت کا نمازگزار ہے ، ۱۶ اسپارے حفظ ہیں، مسجد کے برابر والے میرے مکان میں با احتیاط رہتا ہے گھر کے دروازہ اور مسجد کے دروازہ کا فاصلہ ۸ گز ہے، اس درمیان کسی قسم کی ناپاکی دینے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہزاروں نعتیں و کلام زبانی حفظ ہیں جس کا بہت شوق ہے، خطبہ زبانی یاد نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا وہ نماز پڑھائے سب جائز ہو سکتی ہے یا نہیں؟ مہر بانی فرما کر مفصل تحریر فرما ئیں، نوازش ہوگی۔ فقط ! رافتم: سید ذاکرحسین موضع نگر یا سادات پوسٹ آفس میر سبع تحصیل وضلع بریلی شریف
الجواب: آپ کا بھتیجہ اگر صحیح خواں ہے اور مسائل طہارت و نماز سے آگاہ اور متقی ہے تو وہی امامت کے لیے متعین ہے، دوسرا جوان اوصاف کا حامل نہ ہو، امام نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم