کسی کو ناحق قتل کرنے والے کے ساتھ میل جول، سلام کلام ، دعوت و طعام اور اس کی امامت کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: حیدر کی ایک جائیداد تھی، اس پر دو حصے ہوئے ایک محمدی کا (جو بیٹا ہے حیدر کا ) دوسرامن راج کا( حسین جو بیٹا ہے حیدر کی عورت کا دوسرے مرد سے ) من راج کے نام پوری جائیداد تھی لیکن برابر حصے تھے من راج نے اپنے حصے کی زمین کا مالک بنادیا اپنے بچوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے دواوین اور قادر کو، دواوین اور اس کے بیٹے قادر حسین نے من راج کے حصے کے ساتھ ساتھ محمدی کا حصہ جو محمدی کے دونوں بچے شہاب الدین و امام الدین کو ملنا چاہئے تھا، دوسرے حصے کو بھی لینا چاہا، اس پر جھگڑا ہوا، قادر حسین و امام الدین کے جھگڑے کی نوبت یہاں تک پہونچی کہ امام الدین کے ہاتھ سے قادر حسین کی موت ہوگئی ، تب امام الدین کو کچہری سے سزا ہوگئی ، ۱۹ارسال مسلسل سزا کے بعد امام الدین نے توبہ کی ہے، آئندہ ایسی حرکت سے باز رہنے کا عہد کر رکھا ہے، نماز کا بھی پابند ہے۔ کیا امام الدین سے سلام کلام، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا کیا جا سکتا ہے؟ کیا امام الدین اذان واقامت و امامت وغیرہ کرسکتا ہے؟ اگر جواب اثبات پر ہے تو معترضین کے لئے کیا حکم ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟
الجواب: اگر امام الدین تو بہ صحیحہ کر چکا ہے اور اس کا صلاح حال ظاہر ہے تو اس کی امامت میں اس وجہ سے حرج نہیں اور اس کی اقتدا بشرط اہلیت جائز ہے اور اس سے میل جول بھی ۔ اور معترضین کا اعتراض بے جا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور کفارہ اس پر کچھ لازم نہیں ، صدقہ نافلہ جس قدر چاہے دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله نزیل بنارس / ۱۳ رصفر المظفر ۱۴۰۴ھ