ایک جعلی حافظ اور مدرسہ کا فرضی چندہ کرنے والے کی امامت کا سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) زید اپنے آپ کو حافظ قرآن بتاتا ہے مگر کسی کو آج تک سنایا نہیں اور نہ ہی کسی حافظ کا خود ہی سنا ہے، کہتا ہے کہ مجھ کو وقت نہیں ہے، پیش امام ہے، تراویح برابر پڑھاتا ہے اور اور اگر کوئی حافظ قرآن آ گیا تو یہ بیمار بن جاتا ہے، آنے والے حافظ سے کہتا ہے کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ، دو ایک روز آپ پڑھائیے ، میں پھر پڑھاؤں گا۔ (۲) زید کو دموہ میں آئے ہوئے تقریباً۷ - ۸ سال ہو گئے ہیں، اللہ آباد کے رہنے والے ہیں، جب دموہ میں آئے تو لوگوں سے یہ کہا کہ ایک مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ دھومن گنج الہ آباد میں ہے، اور پریسیڈنٹ محمد حسین ہیں ، اس مدرسہ کو امداد کی ضرورت ہے اور لگ بھگ پانچ سال سے اس مدرسہ کے نام پر کسی سے ا، کسی سے ۲۱ / روپیہ اور کسی صاحب سے ۱۵۱ روپیہ وصولتے رہتے ہیں اور سبھوں کو جعلی و فرضی رسیدیں اور شکریہ کے بطور پرچے دیتے ہیں ، مقامی لوگوں کو شک ہوا اور یہاں کے خزانچی صاحب نے چھان بین کی تو قطعی جھوٹ اور غلط ثابت ہوا، اس مقام پر یعنی دھو من گنج اور اطراف میں اس نام کا کوئی مدرسہ اور ادارہ نہیں ہے، محمد حسین ضرور ہیں جو صرف موٹر ڈرائیور ہیں اور ان کے یعنی زید کے دوستوں میں ہیں، ان کے معمولات میں ان کا چندہ وصولنا قطعی نہیں ہے، انہیں کوئی علم بھی نہیں ۔ جب زید یعنی حافظ اور
الجواب: پر تو بہ صحیحہ فرض ہے، تو بہ صحیحہ یہ ہے کہ باز رہنے کا پختہ عزم کرے اور جن کے روپے ہیں، انہیں واپس دے دے اور ان سے عذر خواہ ہو، یا ان سے وہ روپے معاف کرائے۔ پھر جب اس کا صلاح حال لوگوں پر ظاہر ہو جائے تو امامت کے لائق ہوگا، جب تک اسے امامت سے موقوف رکھا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ مغلسرائے اسٹیشن