کمیٹی کے ارکان کی اہلیت اور امام کی غلط حساب نویسی کا شرعی حکم
سب فاسق فاجر، بد عمل، بدکردار، بے نمازی اور نا اہل ہیں۔ لہذا ان کی بات نہیں مانی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ جب ان لوگوں کو چن لیا گیا اور کمیٹی کا انتخاب عمل میں آچکا ہے جو سب کے مشورے سے ہوا ہے، ایسی صورت میں ان کا حکم شرعاً نافذ ہے یا نہیں؟
لمستفتی: مولا ناسبطین رضا خاں صاحب ساکن محلہ کا نکر ٹولہ، ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: (1) فی الواقع اگر امام مذکور حساب کی خامی پر مطلع تھا تو اُسے حلال نہ تھا کہ غلط حساب لکھے، اس طرح صدر کے ساتھ فریب دہی میں شریک ہوا ، اگر یہی واقعہ ہے کہ امام نے غلط حساب برضا و رغبت بغیر کسی شرعی مجبوری کے لکھا اور یہ امر شرعاً ثابت و مشتہر ہے تو اس کی اقتداء مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے، اگر چہ پہلے نادانستہ غلط حساب لکھا۔ واللہ تعالی اعلم (۲) نہیں، بلکہ دوسری کمیٹی کے ارکان اپنے عہدوں پر بحال رہیں گے جبکہ کوئی وجہ شرعی مانع نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۴ / ذی الحجہ ۱۴۰۹ھ