جمعہ کی ادائیگی سے ظہر کی سقوط اور صدقہ لینے والے کی امامت کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید کہتا ہے کہ فرض جمعہ کے ادا کرنے سے ظہر ساقط ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نماز ظہر ساقط ہونے کی کیا وجہ ہے؟ جبکہ اس میں جمعہ کی نیت ملحوظ ہوتی ہے اور اگر نماز جمعہ ادا کرنے سے ظہر بھی ادا ہو جاتی ہے تو کیا نماز جمعہ میں ظہر کی بھی نیت کی جاتی ہے؟ اگر نیت نہ کی جائے تو ظہر کیسے ادا ہو جائے گی ؟ اس کا جواب اور وجہ سقوط ظہر تحریر فرما ئیں ۔ عین کرم ہو گا (۲) صدقہ فطرہ کھانے والے کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ باوجود یکہ وہ مالک نصاب نہیں ہے۔ المستفتی محمد کفیل الدین، نیابری، پوسٹ بوڑھی جا گیروا یا اسلام پور مغربی دینا جپور ( بنگال)
الجواب: (۱) جمعہ فرض ظہر کے قائم مقام ہے اسی لئے جمعہ پڑھنے سے فرض ظہر ساقط ہو جاتا ہے اور جمعہ اگر فوت ہو جائے تو ظہر پڑھنا لازم ہو جاتا ہے اور جمعہ بہ نیت ظہر بھی ہو جائے گا۔ (۲) اس کی اقتدا جائز ہے جبکہ بے سوال لیتا ہو، یونہی اگر بقدر کفایت کمانے پر قدرت نہ ہو تو ملزم نہیں۔ اور اگر یہ بقدر کفایت کر سکے تو سوال ناجائز ہے اور اس کی امامت مکروہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ