نسبندی کرانے والے کی امامت اور داڑھی کٹوانے والے کے پیچھے نماز کا حکم
نسبندی کرانے والا بعد تو بہ امام ہو سکتا ہے انسبندی کرانے والے کی نماز جنازہ بہر صورت جائز ہے! حد شرع سے کم داڑھی رکھنے والا نالائق امامت ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: (1) زید نے اپنی نسبندی کرالی ہے تو وہ امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور وہ مؤذنی کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور اس کے جنازہ کی نماز ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ اس کو قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور صف اول میں کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر ہو تو کس طرف ؟ اس کے بارے میں اشارہ فرمائیں۔ (۲) پیش امام صاحب ہی بستی کے قاضی صاحب ہیں ، وہ اپنی داڑھی نیچے سے کتر وایا کرتے ہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اور عید و بقر عید کی نماز ان کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ (۳) کچھ لوگ نماز کے پابند ہیں مگر جماعت میں اکثر دیر سے آتے ہیں۔ جب امام ایک یا دو رکعت پڑھا لیتے ہیں اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ ان تمام کا جواب جلد روانہ فرمائیں۔ لمستفتی : حبیب اللہ، ساکن پریم نگر، جھانسی
الجواب: (1) بعد تو بہ وہ امامت یا موذنی کر سکتا ہے جبکہ کسی اور وجہ سے اس میں فسق بقدر شہرت نہ ہو۔ نماز جنازہ اس کی بہر حال پڑھی جائے گی اور صف اول میں بھی وہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) داڑھی حد شرع سے کہ یکمشت ہے، کم کرنا نا جائز ہے اور اس کے مرتکب کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ہے اور پھیر نی واجب۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۳) سستی نہ چاہئے اور عذر کی بنا پر ایسا ہو تو حرج نہیں ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله